رسائی کے لنکس

سرکاری میڈیا کے مطابق پرویز رشید نے بعض علاقوں میں جیو نیوز کی نشریات کی معطلی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ذرائع ابلاغ کے نگران ادارے ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ یعنی پیمرا سے کہا ہے کہ وہ نجی ٹیلی ویژن چینل ’جیو نیوز‘ کی درجہ بندی اور نشریات کو بحال کرے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق پرویز رشید نے بعض علاقوں میں جیو نیوز کی نشریات کی معطلی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل وزارت دفاع کی جیو نیوز کے خلاف درخواست پر پیمرا نے نجی ٹیلی ویژن چینل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں وضاحت طلب کی تھی۔

گزشتہ ہفتہ کے روز جیو نیوز کے سینیئر صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملے کے کچھ ہی دیر بعد اُن کے بھائی عامر میر نے الزام لگایا تھا کہ حامد میر اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر اُن پر حملہ ہوا تو ’اس کے ذمہ دار انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ اور بعض دیگر افسران ہوں گے۔‘

فوج کے ترجمان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر شواہد کے ایسے الزامات عائد کرنا ’گمراہ کن‘ ہے۔

وزارت دفاع نے منگل کو پیمرا سے درخواست کی تھی کہ 'جیو نیوز' کی نشریات معطل کر دی جائیں۔ جس پر پیمرا میں مشاورتی اجلاس میں تمام معاملے کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔

کمیٹی میں پیمرا کے قائم مقام چیئرمین پرویز راٹھور، پرائیوٹ ممبر اسرار عباسی اور پی ٹی اے کے چیئرمین اسماعیل شاہ شامل ہیں۔

پیمرا کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ جیو نیوز کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا اور وزارت دفاع کی طرف سے اُن پر عائد کردہ الزامات اور شواہد کی بابت وضاحت طلب کی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں حامد میر پر حملے کے واقعے کو جواز بنا کر ’’ پاکستان کے قومی اداروں پر جو حملے کیے جا رہے ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے انہیں مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔‘‘

حامد میر کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں،جہاں اُن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
XS
SM
MD
LG