رسائی کے لنکس

جمشید دستی کی انتخابی مہم چلانے کا بھرپور دفاع

  • محمد سید

فائل فوٹو

فائل فوٹو

جعلی ڈگری کیس میں مستعفی ہونے والے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے خلاف ہونے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے جمعرات کو قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمان کا رکن منتخب ہونے کے لیے تعلیمی سند کی شرط ختم ہوچکی ہے اور ملک کا آئین کسی کو اس حوالے سے انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکتا۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ جمشید دستی کو اُن کی جماعت نے مظفر گڑھ سے ضمنی انتخاب کے لیے دوبارہ اپنا اُمیدوار نامزد کیا ہے اور وہ پارٹی کے نظم و ضبط کے پابند ہیں ۔

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی ایم اے اسلامیات کی ڈگری کو رواں سال مارچ میں جعلی قراردیا تھا جس کے بعد وہ اسمبلی اپنی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے ۔ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد جمشید دستی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کا سربراہ بنایا گیا تھا ۔

سپریم کورٹ میں اپنی جعلی ڈگر ی کے اعتراف کے بعد مستعفی ہونے والے جمشید دستی کووزیراعظم گیلانی نے اپنا مشیر مقر رکردیا تھا جس پر سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی جانب سے اُنھیں شدید تنقیدکاسامنا رہا ، لیکن اب حکمران جماعت کی جانب سے ضمنی انتخاب میں جمشید دستی کودوبارہ اپنا اُمیدوار نامزد کرنے اور قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی جانب سے اس اقدام کے دفاع پر سیاسی جماعتیں اور مبصرین حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ دھوکادہی کا مرتکب ہونے او ر اس کا اعتراف کرنے والے سابق رکن قومی اسمبلی کو دوبارہ پارٹی ٹکٹ دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ تاہم وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ نے اپنے فیصلے میں جمشید دستی پر ایسی پابندی عائد نہیں کی ہے کہ وہ جعلی ڈگری کیس میں مستعفی ہونے کے بعد دوبارہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے ۔

حالیہ مہینوں میں حکمران پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے بھی کم از کم تین اراکین پارلیمنٹ اپنی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر مستعفی ہو چکے ہیں ۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پارلیمان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے متعد اراکین کی تعلیمی اسناد کے جعلی ہونے کے حوالے سے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے خبروں کے باعث منتخب پارلیمان کی تذلیل ہو رہی ہے۔

دریں اثنا حکومت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی کاکہنا ہے کہ ایسے ممبران کی جانچ پڑتال کرنا لازمی ہے جن پر جعلی اسناد کی بنیاد پر خلاف قانون منتخب ہونے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی ریٹائرڈ جسٹس فخر النساء نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں انتخاب لڑنے کے لیے بی اے کی شرط عائد کرنا اگرچہ ان کے بقول ایک غلط اور بلا جواز اقدام تھا لیکن جو لوگ جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر منتخب ہوئے وہ بھی ایوان میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک ممبر قومی اسمبلی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ جو ممبران جعلی اسناد کی مدد سے انتخاب جیت کر آئے ہیں انھوں نے ان کے بقول عوام کے اعتماد کو دھوکا دیا ہے لہذا انھیں مستعفی ہو جا نا چاہیئے۔

جمشید دستی

جمشید دستی

احمد بلال جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پل ڈاٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جو اگرچہ بی اے کی شرط کے مخالف ہیں لیکن ان کی رائے میں جعلی ڈگری رکھنے والے ممبران ، پارلیمان اور اپنی سیاسی جماعتوں کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں اور انھیں فوری طور پر نا اہل قرار دیا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG