رسائی کے لنکس

جنرل کیانی کا بیان خوش آئند، وزیراعظم گیلانی


وزیراعظم یوسف رضا گیلانی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہفتے کو اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عدلیہ فوج اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمہوریت کی حمایت میں جو بیانات آئے ہیں اس سے جمہوری نظام کو تقویت ملے گی۔

انھوں نے خاص طور پر فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے وضاحتی بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ ‘‘ آرمی چیف کا جو وضاحتی بیان آیا ہے جمہوری حلقوں میں اس کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور لازمی ہے کہ اس سے بہتری آئے گی’’

وزیراعظم گیلانی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ قومی معاملات پر ان کا اور فوج کا موقف ایک ہی ہو۔

’’چار سال سے ہم شانہ بشانہ مل کر کام کر رہے ہیں خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو پاک امریکہ یا پاک بھارت تعلقات ہوں کشمیر کا مسئلہ ہو ہر معاملے میں ہماری کوشش رہی ہے کہ ہمارا نقطہ نظر ایک ہی ہو۔‘‘

ایک روز قبل فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستانی فوج کے سربراہ نے سیاسی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہونے کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کیا تھا۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے قیاس آرائیوں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فوج نے ملک میں جمہوری نظام کی حمایت کی ہے اور اسے مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا تھا جب وزیراعظم گیلانی نے رواں ہفتے ایک تقریب اور بعد ازاں قومی اسمبلی سے خطاب میں فوج اور اس کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو غیر معمولی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کا بوریا بستر گول کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ’’ریاست کے اندر ریاست نہیں ہوسکتی اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے۔ تمام ادارے پارلیمان کو جواب دہ ہیں اور کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں‘‘۔

امریکی قیادت کو بھیجے گئے متنازع میمو کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے اور اس حوالے سے عسکری اور سیاسی قیادت نے متضاد موقف اختیار کر رکھا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت کے مابین تناؤ کی وجہ بھی عدالت عظمیٰ میں میمو سے متعلق متضاد موقف ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG