رسائی کے لنکس

علی موسٰی گیلانی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دینے کے لیے سپریم کورٹ پہنچے تو داخلی دروازے پر ہی اُنھیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

ایفیڈرین مقدمے میں اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے لیے موسیٰ گیلانی جب جمعہ کو سپریم کورٹ پہنچے تو احاطے کے باہر ہی سے انسداد
منشیات فورس ’اے این ایف‘ کے اہلکاروں نے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔

موسٰی گیلانی کی گرفتاری کے لیے انسداد منشیات کے ادارے ’اے این ایف‘ کے حکام گزشتہ دو روز سے چھاپے مار رہے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے اے این ایف کی اس کارروائی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے موسیٰ گیلانی کو فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جس پر انھیں کچھ دیر بعد عدالت عظمیٰ میں لایا گیا۔

درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے موسیٰ گیلانی کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے 25 ستمبر تک کی مہلت دے دی۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ عدالت میں پیش ہونے آئے تھے لیکن انھیں اے این ایف نے ہراساں کیا۔

سابق وزیراعظم کے صاحبزادے پر الزام ہے کہ اُن کے دباؤ میں وزارت صحت کے افسران نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایفیڈرین کوٹہ میں سے اڑھائی ہزار کلوگرام ملتان میں دوا سازی کی دو کمپنیوں کو فراہم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین بھی اس مقدمے کے ملزمان میں شامل ہیں لیکن رواں ہفتے عدالت عظمٰی نے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے اسی مقدمے میں مخدوم شہاب الدین اور علی موسیٰ گیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں جس کے بعد یہ دونوں ملزمان روپوش تھے۔
XS
SM
MD
LG