رسائی کے لنکس

گلگلت بلتستان میں سیلاب زدگان کی نو آباد کاری


ٹینس اسٹار اعصام الحق کو علاقے سے متعلق تفصیلات بتائی جارہی ہیں

ٹینس اسٹار اعصام الحق کو علاقے سے متعلق تفصیلات بتائی جارہی ہیں

پاکستان میں تقریباً چار ماہ قبل آنے والے تباہ کن سیلاب میں گلگلت بلتستان کے تقریباً 87 ہزار افراد یعنی دس فیصد آبادی اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئی تھی جسے اب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے ایک پروگرام کے تحت واپس آباد کیا جا رہا ہے۔

یہ بات ادارے کے عہدیداروں نے سیلاب زدگان کی مشکلات کو اجاگر کرنے اور ان کے لئے امداد اکھٹی کرنے کے لئے اپنے خیر سگالی کے سفیر اور ٹینس اسٹار اعصام الحق کو اس ہفتے متاثرہ ضلع ہنزہ نگر اورغذر کے دورے کے دوران بتائی۔

ان علاقوں کے عوام نے گذشتہ ہفتوں کے دوران امدادی اداروں کے ساتھ مل کر اپنے گھروں کی دوبارہ بنیاد رکھنے اور ڈھانچے کی تعمیر میں سر گرم کردار ادا کیا اور ادارے کا کہنا ہے کہ تعمیرنو کے کام میں مقامی آبادی کو شامل کرنے سے جہاں ایک طرف مقامی معیشت کی ترقی ہو رہی ہے وہیں لوگوں کو بہت سے نئے ہنر سیکھنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

اعصام الحق نے سیلاب زدہ مرد اور خواتین سے ملاقات کے دوران کہا کہ انھیں ان کا جذبہ اور آنکھوں میں امید کی کرن دیکھ کر بہت مسرت ہو رہی ہے ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’مشکل وقت ابھی ٹلا نہیں ہے اور مقامی آبادی اسی طرح ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کر سکتی ہے‘‘۔

یو این ڈی پی کے مطابق چترال اور گلگت بلتستان کے میں سیلاب سے 2816 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں سے تقریباً 1400 مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔

ادارے کی طرف سے ابھی تک پانچ سو کے قریب مکمل طور پر تباہ شدہ گھروں کی جگہ چھت فراہم کر دی گئی ہے اور اتنی ہی تعداد میں جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی مرمت کر کے ان کی چھتوں کو پانی سے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے گھروں کی مرمت بھی کی گئی ہے جنہیں معمولی نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG