رسائی کے لنکس

گلگت جیل سے مفرور قیدی تاحال گرفتار نہ ہو سکا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مفرور ملزمان میں 2013ء میں پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے دس غیر ملکی سیاحوں سمیت 11 افراد کو ہلاک کرنے والے گروپ کا مبینہ رکن بھی شامل ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت کی جیل سے فرار ہونے والے دو اہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاہم دو روز گزرنے کے باوجود انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

ان مفرور ملزمان میں 2013ء میں پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے دس غیر ملکی سیاحوں سمیت 11 افراد کو ہلاک کرنے والے گروپ کا مبینہ رکن بھی شامل ہے۔

گلگت پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق قیدیوں کے فرار میں ممکنہ طور پر معاونت فراہم کرنے کے الزام میں پولیس اور جیل کے عملے کے ارکان سمیت دس افراد کو حراست میں لے کر ان سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے جب کہ جیل کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔

جمعہ کو علی الصبح چار قیدیوں نے گلگت جیل سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی جن میں سے ایک پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا جب کہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

ملک میں اس سے قبل بھی جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں خاص طور پر حالیہ برسوں میں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندوں کی طرف سے جیلوں پر حملے کر کے وہاں قید اپنے ساتھیوں کو چھڑوانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

ایک ایسے وقت جب پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، گلگت جیل سے اہم مبینہ عسکریت پسند کے فرار کو مبصرین ایک انتباہ قرار دے رہے ہیں۔

سابقہ سیکرٹری داخلہ اور سکیورٹی کے امور کے ماہر تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسے واقعات کی تدارک کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ جیلوں میں سالوں سے قید اہم شدت پسندوں اور مجرموں کے جیل سے باہر کے رابطوں کو کلی طور پر ختم کیا جائے۔

"عسکریت پسند ابھی پوری طرح ختم تو نہیں ہوئے۔۔۔میرا خیال ہے ماضی میں جو واقعات ہو چکے ہیں جیل توڑنے کے ان کی تفتیش کو سامنے رکھتے ہوئے خاص طور پر ایسی جیلیں جہاں بڑے دہشت گرد قید ہیں ان کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنا ہو گا۔"

گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی اسکول پر ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم نے ملک میں پھانسیوں کی سزاؤں پر عملدرآمد پر عائد پابندی بھی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 20 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

مجرموں کو پھانسیاں دیے جانے پر بھی جیلوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر جیلوں کی سکیورٹی کو پہلے ہی مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں خطرناک مجرموں اور دہشت گردی میں ملوث مجرموں کے لیے علیحدہ قید خانے بنانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG