رسائی کے لنکس

ٹرانسپورٹرز اتحاد کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 55 ہزار چھوٹے بڑے ٹرک اور مال بردار کنٹینرز کھڑے رہے جس کی وجہ سے انھیں بھی لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

حکومت کی طرف سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے اتوار کو اپنی 12 روزہ ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ٹرانسپورٹرز نے اپنے ایک درجن سے زائد مطالبات کی شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے ہڑتال کر رکھی تھی جس کی وجہ سے ہزاروں ٹرک اور کنٹینرز کراچی کی بندرگاہوں پر کھڑے رہے۔ اس ہڑتال کے باعث صنعتوں کو خام مال کی فراہمی سمیت برآمد کنندگان کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا تھا۔

اتوار کو ساحلی شہر کراچی میں وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار کے ساتھ ٹرانسپورٹرز کی مختلف تنظیموں کے مذاکرات کو تسلیم کر لیا گیا۔

یونائیٹڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے چیئرمین غلام یاسین خان نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سے ان کے چار مطالبات تھے جو تسلیم کر لیے گئے اور صوبائی حکومت سے متعلقہ مطالبات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایڈوانس ٹیکس میں کمی، کراچی میں ٹرک اسٹینڈ کی زمین کی الاٹمنٹ، بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے وقت جلائی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں کا معاوضہ اور موٹر وے و نیشنل ہائی ویز کے ساتھ معاملات کے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 55 ہزار چھوٹے بڑے ٹرک اور مال بردار کنٹینرز کھڑے رہے جس کی وجہ سے انھیں بھی لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اس ہڑتال کی وجہ سے کراچی کی بندرگاہ پر کنٹینرز رکھنے کی جگہ بھی تقریباً ختم ہوچلی تھی جب کہ مختلف کنٹینرز میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورنی کے خراب ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا تھا۔
XS
SM
MD
LG