رسائی کے لنکس

ناقدین کا ماننا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بلند و بانگ دعوے کرنے والی مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد وعدوں کا سلسلہ تو جاری رکھا مگر ان پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے

پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے رواں ہفتے اپنے دور اقتدار کے پہلے 100 دن مکمل کیے۔

حکومت اس عرصے کے دوران اپنی کارکردگی کا دفاع کرتی ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے وعدوں کے برعکس حقیقی اقدامات کم کیے گئے۔

مسلم لیگ (ن) نے جون کے پہلے ہفتے میں اقتدار سنبھالا تھا اور پارٹی کے سربراہ نواز شریف ملک کے تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے اس عرصے میں حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھیں توانائی کے بحران، کمزور معیشت اور خون ریز بد امنی جیسے سنگین مسائل ورثے میں ملے۔

وفاقی وزیرِ برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے ہفتہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے وہ تمام اقدامات کیے جن کے بارے میں ماضی کی حکومتیں اُن کے بقول سوچنے سے بھی خوف زدہ تھیں۔

’’ہم مسائل سے گھبراتے نہیں ہیں، چیلنجز کو قبول کرتے ہیں، چیلنجز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘


پرویز رشید کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے توانائی کے بحران میں کمی کے لیے بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو واجب الادا اربوں روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کی جس کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 16,000 میگا واٹ بجلی کی یومیہ پیداوار ممکن ہوئی۔

اُنھوں نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق حکومت کی کوششوں اور ملک کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی مرکز کراچی میں امن کی بحالی کے سلسلے میں حالیہ اقدامات کو بھی حکومت کی کامیابیاں قرار دیا۔

تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بلند و بانگ دعوے کرنے والی مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد وعدوں کا سلسلہ تو جاری رکھا مگر ان پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔

تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر ملکی مسائل کا تعلق نظام سے ہے اور اُن کے خیال میں معیشت اور دیگر شعبوں میں آئندہ ایک سال کے دوران کوئی خاطر خواہ تبدیلی کی امکانات انتہائی محدود ہیں۔

’’گردشی قرضوں کے لیے اُنھوں نے 30 جون سے پہلے پیسہ نکال کر دے دیا، اس سے حکومت کا خسارہ بڑھ گیا جو اُنھوں نے پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیا۔ نتیجہ کیا نکلا، بجلی کی کمی میں پہلے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔ طالبان سے بات چیت کی بات ہوئی ہے اب دیکھیں گے نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ تو ابھی صرف وعدے ہیں، امیدیں ہیں، منصوبے ہیں، عملی طور پر جو مسائل تھے ان میں کسی کا حل ہمارے سامنے نہیں۔‘‘

حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی طرف سے حال ہی میں پاکستان کو 6.7 ارب ڈالر قرض کی فراہمی کے اعلان کے ساتھ بہت سی کڑی شرائط جڑی ہوئی ہیں اور اُن کے بقول مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے لیے انھیں پورا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

تاہم وفاقی وزیرِ برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ہفتہ کو نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ مالیاتی ادارے کی شرائط میں ایسا کوئی اقدام نہیں جو مسلم لیگ (ن) کے منشور میں شامل نا ہو۔

’’ہمارا جو تصور ہے سیاست کا وہ معیشت کے گرد ہے، کیوں کہ آج کے دور میں جس ملک کی معیشت کمزور ہو جائے اس ملک کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔‘‘


احسن اقبال نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے کی جانے والی اصلاحات کے ثمرات مسلم لیگ (ن) حکومت کی مدت کے آخری دو سالوں میں ملیں گے۔
XS
SM
MD
LG