رسائی کے لنکس

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان


وزیر خزانہ اسحاق ڈار

وزیر خزانہ اسحاق ڈار

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ جیسے پینشن میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ویسے ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی دس فیصد اضافہ کر دیا جائے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جو کہ یکم جولائی 2013 سے نافذ العمل ہوگا۔

رواں ہفتے وفاقی بجٹ جب قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تو اس وقت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تجویز نہیں کیا گیا۔

حکومت اپنے اس فیصلے کا یہ کہہ کر دفاع کرتی رہی کہ موجودہ اقتصادی حالات کے تناظر میں ملازمین کی تنخواہوں میں کسی طرح کا اضافہ ممکن نہیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیے جانے پر ملک بھر میں حکومت پر تنقید کی جا رہی تھی کہ مہنگائی میں اضافے کے باوجود تنخواہ دار طبقے کے لیے کوئی ریلیف نہیں رکھا گیا۔

ہفتہ کو وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا۔

’’ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی کہ وہ یہ بتائے کہ تنخواہوں میں کیا اضافہ ہو گا، تو کمیٹی نے آج صبح جو اپنی سفارشات دی ہیں اس میں ملک میں مہنگائی اور مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے 7.5 فیصد اضافے کا کہا گیا اور اس سے حکومت کو 16 ارب روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ جیسے پینشن میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ویسے ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی دس فیصد اضافہ کر دیا جائے۔

’’وزیراعظم کی منظوری سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دس فیصد (تنخواہ) بڑھائی جائے اور یہ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہو گا۔‘‘

اسحاق ڈار نے ایک بار پھر ملک کی اقتصادی صورتحال کی بہتری کے لیے مشکل فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پہلے پانچ سو ارب روپے کے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 180 ارب روپے کا اضافہ تجویز کیا ہے جس سے اُن کے بقول روزگار کے کئی مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے محصولات میں اضافے کے لیے ٹیکس وصولی کے لیے ایک بڑا ٹارگٹ رکھا ہے۔

’’ہمارا بڑا مقصد ہے کہ ٹیکس کی جو چوری ہے، جن کو ٹیکس دینا چاہیئے اور نہیں دیتے وہ اُن کی جانب ہماری ساری کوشش ہو گی۔ ہمارا ایک ہدف ہے کہ پانچ لاکھ نئے افراد (جو ٹیکس ادا کر سکتے ہیں) اُن کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔‘‘

اُدھر ہفتہ سے پارلیمنٹ میں بجٹ تجاویز پر بحث کا آغاز ہوا اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد یہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گا۔

مسلم لیگ (ن) کی سربراہ نواز شریف نے پانچ جون کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا اور نئی حکومت کو ذمہ داریاں سنبھالنے کے ایک ہفتہ کے بعد ہی پہلا بجٹ پیش کرنا پڑا۔
XS
SM
MD
LG