رسائی کے لنکس

دہشت گرد اپنے موقف کی تشہیر کے لیے صحافیوں کو دھمکاتے ہیں: پرویز رشید


وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید (فائل فوٹو)

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان حالیہ برسوں میں صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں مبتلا ملک میں صحافیوں کو جہاں اپنے تحفظ سے متعلق خدشات لاحق ہیں وہیں ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں بھی مزید بڑھ گئی ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور ایسے میں صحافیوں کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں کیونکہ ان کے بقول دہشت گرد صحافتی برادری کو اپنے موقف کی تشہیر کے لیے دھمکاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صحافیوں کو لوگوں کو معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں اور فرائض کی انجام دہی کے لیے موافق ماحول کی فراہمی از حد ضروری ہے جس کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

"اگر صحافی محفوظ نہیں ہوں گے تو ذرائع ابلاغ محفوظ نہیں ہوں گے اور صحافت پیش وارانہ انداز سے نہیں کی جاسکے گی۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت صحافتی برادری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔"

ان کے بقول صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جارہا ہے جب کہ کام کے دوران اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے صحافیوں کو تربیت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔

انھوں نے پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے مالی اعانت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ترین ملک قرار دیتی آئی ہیں اور گزشتہ سال دنیا میں سب سے زیادہ صحافی پاکستان میں مارے گئے جن کی تعداد 14 بتائی گئی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان حالیہ برسوں میں صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے۔

لیکن انھوں نے ذرائع ابلاغ سے درخواست کی کہ وہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں حکومت کا ساتھ دیں اور معاشرے میں پائے جانے والے اضطرابی تاثر کو زائل کر کے دہشت گردی کے خلاف قومی رائے عامہ کو ہم آہنگ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

صحافیوں کی مقامی تنظیمیں بھی یہ کہتی آئی ہیں کہ پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں صحافیوں کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہے اور انھیں فرائض کی انجام دہی کے دوران شدت پسندوں اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG