رسائی کے لنکس

پاکستان میں معذور افراد کے مسائل


پاکستان میں معذور افراد

پاکستان میں معذور افراد

حکومتِ پاکستان خصوصی افراد کے بہبود کےلیے بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر برائے سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم، ثمینہ خالد گُھرکی نے جمعے کے روز ریڈیو آپ کی دنیا، وائس آف امریکہ کے پروگرام راؤنڈ ٹیبل میں بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے تسلیم کیا کہ مسائل تو موجود ہیں لیکن اُنھیں حل کرنے کے لیے کئی سطحوں پر تعاون کی ضرورت ہے۔

فنڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ گورنمنٹ معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کو جو فنڈ مہیا کرتی ہے اُس کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جاتی ہے اور کارکردگی دیکھ کر ہی اگلی قسط دی جاتی ہے اور اگر کسی کی کارکردگی بہتر نہیں ہے تو فنڈز کو روک لیا جاتا ہے۔

ثمینہ خالد کا کہنا تھا کہ 2009ء کے شروع میں رجسٹرڈ معذور افراد کی تعداد چھ سے سات ہزار تک تھی، لیکن جب سے موجودہ حکومت نے اختیارات سنبھالے ہیں، اُن کے لیے خصوصی شناختی کارڈ جاری کرنا شروع کیےگئے ہیں، اور اب یہ تعداد بڑھ کر دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

اُن کے بقول، ‘اب معاشرے میں خصوصی افراد کے حوالے سے زیادہ شعورو آگہی آئی ہے اور لوگوں نے معذور افراد کو اپنے سے مختلف سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔’

ثمینہ خالدکا کہنا تھا کہ ہم جلد ہی ٹرانسپورٹیشن بھی شروع کریں گے تاکہ خصوصی افراد کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے۔

سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری و تجارتی علاقوں میں ریمپس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ یہ چند عمارات میں بنائے گئے ہیں اور باقی میں بھی جلد ہی اِن کا آغاز کردیا جائے گا، اور اب کوئی بھی نئی عمارت اُس وقت تک منظور ہی نہیں ہوگی جب تک خصوصی ریمپس پلان میں شامل نہیں ہوں گے۔

پروگرام میں شریک غیر سرکاری تنظیم ‘دوست’ کے صدر فارس مغل کا کہنا تھا کہ محکمہ ٴسماجی بہبود کے ایک اعلیٰ عہدے دار کوئٹہ میں تیسری منزل پر بیٹھتے ہیں، جہاں نہ لفٹ ہے نہ ریمپ۔ لہٰذا، خصوصی افراد جو وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں اُن کا اُن تک پہنچنا نا ممکن ہے۔ اِس پر ثمینہ خالد گھرکی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئٹہ فون کرکے صورتِ حال کا جائزہ لیں گی اور کوشش کریں گی کہ کوئٹہ کے دفتر کو گراؤنڈ فلور پر شفٹ کیا جائے۔

اِس مطالبےپر کہ خصوصی افراد کو جو شناختی کارڈ جاری کئے جاتے ہیں وہ ایک ہی کھڑکی سے ملنے چاہئیں، ثمینہ خالد نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں تو شناختی کارڈ ایک ہی کھڑکی سے ملتےہیں، باقی جگہوں پر بھی جلد ہی یہ نظام شروع کردیا جائے گا۔

پروگرام میں شریک مہمانوں کا کہنا تھا کہ معاشرے کے نارمل افراد کو مزید بدلنے کی ضرورت ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ، والدین کو بھی جو اپنے معذور بچوں کو خود ہی کمتر سمجھتے ہیں اور دوسروں سے ملواتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اُنھیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا اور اِس ساری صورتِ حال کو بدلنے کے لیے شعورو آگہی کی اشد ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG