رسائی کے لنکس

چارسدہ: دستی بم حملوں میں کم ازکم 14 زخمی

  • شمیم شاہد

جائے وقوع پر موجود امدادی کارکنان

دستی بم کے دھماکے سے اسکول کی عمارت کا مرکزی گیٹ اور چند کمروں کو نقصان پہنچا اور یہاں موجود متعدد بچے زخمی ہوگئے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ہفتہ کی صبح ایک اسکول سمیت مختلف مقامات پر دستی بم کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم ازکم 14 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے موصل کورونا نامی علاقے میں پانچ مختلف مقامات پر دستی بموں سے ایک نجی اسکول سمیت مختلف گھروں کو نشانہ بنایا۔

دستی بم کے دھماکے سے اسکول کی عمارت کا مرکزی گیٹ اور چند کمروں کو نقصان پہنچا اور یہاں موجود متعدد بچے زخمی ہوگئے۔

علاوہ ازیں چار مختلف گھروں کو بھی دستی بموں سے نشانہ بنایا گیا اور یہاں بھی زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

یکے بعد دیگر ہونے والے دستی بم دھماکوں کی اطلاع ملتے ہیں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان مقامات پر پہنچے لیکن تاحال اس میں ملوث عناصر کے بارے میں حکام نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہے۔

موصل کورونا قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے قریب واقع ہے۔ تاحال کسی فرد یا گروہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان واقعات میں مبینہ طور پر بھتہ خور ملوث ہو سکتے ہیں۔

ایک روز قبل پشاور میں داؤد زئی کے علاقے میں بھی نامعلوم حملہ آوروں نے ایک سرکاری افسر کے گھر کو دیسی ساختہ بموں سے نشانہ بنایا تھا۔

ان دھماکوں سے عمار کو جزوی نقصان پہنچا تھا لیکن کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG