رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے چار ’دہشت گردوں‘ کو پھانسی


پاکستان میں قائم خصوصی فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مزید چار شدت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ’’دہشت گرد‘‘ معصوم افراد کےقتل، مسجد پر حملہ، مواصلاتی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے علاوہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔

جن ’’دہشت گردوں‘‘ کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا اُن کے نام قیصر خان، محمد عمر، عزیز خان اور قاری زبیر بتائے گئے ہیں۔

’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق ان چاروں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 30 دہشت گردوں کے بلیک وارنٹ یعنی (موت کے پروانے) پر دستخط کیے تھے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں آپریشن ’ردالفساد‘ کے تحت اُن مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد تیز کیا جا رہا ہے، جنہیں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

پاکستانی پارلیمان سے منظوری کے بعد رواں سال مارچ ہی میں فوج عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی تھی۔

پشاور میں دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد ملک میں دو سال کی مدت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے 21 ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی۔

لیکن وہ دو سالہ مدت رواں سال سات جنوری کو ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتوں نے مشاورت کے بعد مزید دو سال کے لیے فوجی عدالتوں میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا۔

اگرچہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کی طرف سے فوجی عدالتوں سے سنائی جانے والی سزاؤں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے یہ خصوصی عدالتیں بنائی گئیں اور دوران سماعت تمام ملزمان کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG