رسائی کے لنکس

پاکستان: سزائے موت کے مزید دو مجرموں کو پھانسی دے دی گئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 320 مجرموں کو پھانسی دی گئی اور وہ ایک ہی سال میں سب سے زیادہ سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والے دنیا کے تین ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" کی طرف سے پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد میں اضافے پر تنقید کے باوجود ہفتہ کو سزائے موت کے دیگر دو مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

مشرقی ضلع سیالکوٹ کی ایک جیل میں ناصر محمود اور طاہر اقبال کو 2002ء میں زمین کے تنازع پر ایک ہی خاندان کے قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی۔

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 320 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

پابندی ختم ہونے کے بعد پہلے تو صرف دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والوں کی سزاؤں پر عملدرآمد شروع کیا گیا لیکن پھر اس کا دائرہ دیگر تمام جرائم میں سزائے موت پانے والوں تک بڑھا دیا گیا۔

رواں ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 320 مجرموں کو پھانسی دی گئی اور وہ ایک ہی سال میں سب سے زیادہ سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والے دنیا کے تین ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں ایران اور سعودی عرب شامل ہیں۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور عہدیداروں کے مطابق مجرموں کو پھانسیاں دیے جانے کے بعد سے جرائم کی شرح کو کم کرنے میں بھی خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔

XS
SM
MD
LG