رسائی کے لنکس

خودکش بمبار کو روک کر زندگیاں بچانے والا ’ہیرو‘ ہے: اسکول پرنسپل


اعتزاز حسن

اعتزاز حسن

رواں ہفتے پیر کی صبح ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں ایک خودکش بمبار اسکول کی جانب بڑھ رہا تھا کہ 15 سالہ اعتزاز نے اُسے مشتبہ سمجھتے ہوئے روکنے کی کوشش جس پر حملہ آور نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں خودکش حملہ آور کو اسکول میں گھسنے سے روکتے ہوئے ہلاک ہونے والے نویں جماعت کے طالب علم اعتزاز حسن کو نا صرف اُس کے علاقے بلکہ ملک بھر میں ایک ’’ہیرو‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بھی ایک متفقہ قرار داد میں اعتزاز حسن کو خراج تحسین پیش کیا۔ سینٹیر زاہد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ہے کہ اعتزاز حسن کو ملک کے اعلٰی ترین سویلین ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازا جائے۔

’’اعتزاز جو تھا وہ ہیرو ہے، کیوں کہ نا تو اس کی ذمہ داری اور نا ہی وہ حکومت سے تنخواہ لے رہا تھا۔ اُس نوجوان نے تو صرف انسانیت کی خاطر یہ قربانی دی۔‘‘

خیبر پختونخواہ پولیس کے انسپکٹر جنرل ناصر خان درانی نے بھی اعتزاز حسن کو اعلٰی سویلین اعزاز سے نوازنے کی تجویز پیش کی ہے۔

رواں ہفتے پیر کی صبح ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں ایک خودکش بمبار اسکول کی جانب بڑھ رہا تھا کہ 15 سالہ اعتزاز نے اُسے مشتبہ سمجھتے ہوئے روکنے کی کوشش کی جس پر حملہ آور نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

حملہ آور نے بھی اسکول کا ’یونیفارم‘ پہن رکھا تھا۔ ابراہیم زئی اسکول کے پرنسپل لعل باز خان نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جس روز یہ حملہ ہوا اُس وقت اسکول میں لگ بھگ 500 طالب علم موجود تھے اور دن کے آغاز پر منعقدہ ’اسمبلی‘ میں تمام ہی طالب علم اور اساتذہ شریک تھے۔

پرنسپل لعل باز خان کہتے ہیں کہ اعتزاز حسن کے ہمراہ دو دیگر طالب علموں مذاہد علی اور شاہ زیب الحسن نے بھی خودکش بمبار کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا تاہم اُن کے بقول وہ دونوں نوجوان طالب علم محفوظ رہے۔



اعتزاز حسن کے اسکول میں ابتدائی طور پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا اور اس دروان اُن کے لیے یادگاری تقاریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔

پاکستان بھر میں مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بھی اعتزاز حسن کو زبردست خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو کی سرحدیں ملک کے قبائلی علاقوں سے بھی ملتی ہیں جہاں شدت پسند سرگرم ہیں۔ ہنگو ماضی میں شیعہ سنی فسادت کی بھی لپیٹ میں رہ چکا ہے۔

ابراہیم زئی اسکول کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG