رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی وطن روانہ


پاکستانی سفیر حیسن حقانی

پاکستانی سفیر حیسن حقانی

حسین حقانی نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کیا ہے اور واشنگٹن سے روانگی سے قبل سماجی رابطے کے نیٹ ورک ٹویٹر پر جاری کیے گیے اپنے پیغام میں پاکستانی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ وہ وطن واپس جارہے ہیں۔ روانگی سے قبل انھوں نے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے مارک گراسمن سمیت امریکی وزارت خارجہ کے کئی عہدے داروں سے بھی ملاقاتیں کی۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی پر الزام ہے کہ اُنھوں نے فوج کی اعلیٰ قیادت کوبرطرف کرنے کے لیے صدر زرداری کی ایما پر ایک خط کے ذریعےامریکہ سے مدد مانگی تھی جس کے بدلےدہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستانی جوہری پروگرام تک رسائی سمیت کئی دیگر معاملات پر حکومت پاکستان کی طرف سے رعائتیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ان الزامات کی بعد پاکستانی فوجی قیادت اور پی پی پی کی مخلوط حکومت کے درمیان کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ہفتے چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی صدر زرداری سے کم ازکم دو مرتبہ ملاقاتیں کرچکے ہیں اور مقامی میڈیا کے مطابق فوجی قیادت کی طرف سے بظاہر سخت دباؤ کا نتیجہ ہے کہ جس خفیہ خط کے وجود سے حکومت کئی روز تک انکاری تھی اب اس کی تحقیقات اور پاکستانی سفیر کو اسلام آباد طلب کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے بھی حسین حقانی کو برطرف کر کے اس پورے معاملے کی آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کرانےکے مطالبات بھی زور پکڑتے جارہے ہیں۔

ہفتہ کو اسلام آباد کے نواح میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے کہا کہ اس مبینہ میمو کے بارے میں جلد از جلد تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت اس پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کرتی تو وہ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرسکتےہیں۔

نواز شریف

نواز شریف

توقع ہے کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد حیسن حقانی سیاسی قیادت کے سامنے اپنا موقف بیان کریں گے۔

حسین حقانی نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کیا ہے اور واشنگٹن سے روانگی سے قبل سماجی رابطے کے نیٹ ورک ٹویٹر پر جاری کیے گیے اپنے پیغام میں پاکستانی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ وہ وطن واپس جارہے ہیں۔ روانگی سے قبل انھوں نے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے مارک گراسمن سمیت امریکی وزارت خارجہ کے کئی عہدے داروں سے بھی ملاقاتیں کی۔

ادھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں حزب مخالف کے مطالبات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کا موقف ضرور سنا جانا چاہیے۔’’ہم نے انھیں(سفیر کو) یہاں بلایا ہے پاکستان میں اور ان موقف سننے کے بعد ہمیں قومی مفاد انتا ہی عزیز ہے جتنا کسی اور کو ہوگا۔‘‘

صدر پاکستان سے منسوب مبینہ خط کو سابق امریکی فوجی کمانڈر ایڈمرل مائیک ملن تک پہنچانے کی ذمہ داری مبینہ طورپر پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو سونپی گئی جس نے یہ کام ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے ایک ہفتے بعد سرانجام دیا تھا۔ یہ تمام تفصیلات خود منصور اعجاز نے میڈیا کو جاری کی ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ حسین حقانی کی تردید کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم ہیں کیونکہ ان کے پاس اس بارے میں ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

دریں اثنا حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے ہفتہ کو ایوان صدر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری نے مائیک ملن کے نام کوئی خفیہ خط تحریر نہیں کیا تھا۔ انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری اُن کے بقول’’ بچے نہیں جو حسین حقانی کو ملن کو خط لکھنے کی ہدایت کریں گے‘‘۔

XS
SM
MD
LG