رسائی کے لنکس

”خواتین جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف آوازاٹھائیں“

  • حسن سید

ڈاکٹر فوزیہ سعید پریس کانفرنس میں قانون کی تفصیلات بتا رہی ہیں

ڈاکٹر فوزیہ سعید پریس کانفرنس میں قانون کی تفصیلات بتا رہی ہیں

خواتین کو جائے کار پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون وفاقی سطح پر تقریباً 40وزارتوں اور محکموں میں نافذ ہوچکا ہے جب کہ نجی شعبے میں بھی اس کو بھرپور طریقے سے اپنایا جارہا ہے۔

یہ بات اس قانون کے نفاذ کی نگرانی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ سعید نے پیر کے روز اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

انھوں نے بتایا کہ صوبائی چیف سیکرٹریوں کو بھی وفاق کی طرف سے اس قانون کے نفاذ کے لیے ہدایت نامے جاری کیے جاچکے ہیں اور جس بھی دفتر میں کسی خاتون یا مرد کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت موجود ہو اس متعلقہ ادارے میں قائم تین رکنی کمیٹی کے پاس شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ کمیٹی جس میں ہرادارے کی ایک خاتون بھی شامل ہوگی معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہراساں کرنے والے کے خلاف کارروائی عمل میں لائے گی جس میں نوکری سے معطل یا پھر برخواست کیے جانے کی سزا شامل ہوسکتی ہے۔

تاہم فوزیہ سعید کا کہنا تھا کہ فروری 2010 میں منظور ہونے والے اس قانون سے رات ورات کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ ان کے مطابق یہ ایک شروعات ہے اور اس مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف شکایات درج کرائیں۔

انھوں نے بتایا کہ کمیٹی، جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیفیم، آکسفیم اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے علاوہ نجی شعبے کے نمائندے بھی شامل ہیں، اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ قانون کا موثر نفاذ ہو۔

XS
SM
MD
LG