رسائی کے لنکس

ہزارہ ڈویژن میں جانی نقصان کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام

  • شمیم شاہد

ہزارہ ڈویژن میں جانی نقصان کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام

ہزارہ ڈویژن میں جانی نقصان کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام

بدھ کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات میا ں افتخار حسین نے بتایا کہ ہزارہ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں صوبے کے نام کی تبدیلی کے خلاف پرتشد د مظاہروں میں ہونے والے جانی نقصان کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی سربراہی ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبدالعزیز کنڈی کریں گے اور کمیشن 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی چاررکنی وزراتی کمیٹی بھی ہزارہ ڈویژ ن میں امن وامان کی بحالی اور صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے اپنے طور پر کام کررہی ہے جب کہ صوبے کے اعلیٰ انتظامی عہدیدار چیف سیکریٹری فیاض طور و نے بھی ایبٹ آباد میں مقامی رہنماؤں سے بات چیت کر کے انتظامیہ کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختون خواہ رکھنے کے خلاف ایبٹ آباد اورہزارہ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں جاری مظاہروں میں پیر کے روزمشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ کی اور ان جھڑپوں میں کم ازکم سات افراد ہلاک جبکہ100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔علاقے میں کشیدگی بدھ کے روز بھی برقرار رہی جبکہ کاروبار زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔

ہزارہ ڈویژن میں ہونے والی احتجاجی مہم کے قائدین کی طرف سے الگ صوبے کے قیام کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ آئین سب کو یہ حق دیتا ہے لیکن اس کے لیے تشدد کی بجائے پرامن جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی کے دوتہائی سے زائداراکین کی حمایت سے منظوری کے بعد سینٹ میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے پر بحث جاری ہے اور توقع ہے کہ جمعرات کو اس کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہو گی۔ تاہم ایوان بالا میں حزب اختلاف کی جماعتوں خصوصاََ مسلم لیگ ق کے اراکین کی طرف سے اٹھارویں ترمیم میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کی شق کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو حزب اختلاف مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ق کے شکست خوردہ عناصر نے سیاسی مقاصد کے لیے ان کے بقول لاشوں کی سیاست کرنے کی کوشش کی ہے۔

XS
SM
MD
LG