رسائی کے لنکس

وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومتِ عوام کی مدد سے اس وائرس پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

ڈینگی وائرس سے متعلق آگاہی میں اضافے اور احتیاطی تدابیر کے فروغ کے سلسلے میں حکومتِ پنجاب نے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔

مچھروں کے ذریعے انسانوں کو منتقل ہونے والا یہ وائرس گزشتہ برس پنجاب میں وبائی شکل اختیار کر گیا تھا، جہاں اس کا شکار ہونے والے سینکڑوں مریضوں میں سے لگ بھگ 300 دورانِ علاج دم توڑ گئے۔

صوبائی حکومت نے ماضی جیسی خطرناک صورت حال سے محفوظ رہنے کے لیے گزشتہ کئی ہفتوں سے اس وائرس کے خلاف مہم پر کام شروع کر رکھا ہے، جس کے تسلسل میں اتوار کو صوبے بھر میں ’’انسدادِ ڈینگی دن‘‘ منایا گیا۔

اس موقع پر صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں خصوصی سرگرمیاں منعقد ہوئیں جن میں سیاسی قائدین اور طبی ماہرین نے ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کو اُجاگر کیا۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے لاہور کی مرکزی شاہراہ پر لوگوں میں پیمفلٹس کی تقسیم میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتِ عوام کی مدد سے اس وائرس پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

’’کلاس رومز میں ڈینگی کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے ... ہم نے رضا کاروں کی ایک بہت بڑی فوج تیار کی ہے جو ڈینگی سے آگاہی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک پنجاب بھر میں تقریباً دو درجن افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ تاہم اس مرتبہ صوبہ سندھ میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔

ڈینگی کے پھیلاؤ کی نگرانی کے لیے قائم خصوصی سیل کے مطابق صرف کراچی میں اب تک اس وائرس کے 165 مریض سامنے آ چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG