رسائی کے لنکس

ایڈز اور ہپٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے’آٹو ڈسپوزبل سرنجیں‘


ایڈز اور ہپٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے’آٹو ڈسپوزبل سرنجیں‘

ایڈز اور ہپٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے’آٹو ڈسپوزبل سرنجیں‘

ملک میں ایچ آئی وی ایڈز اور ہپٹائٹس جیسے امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت ’’آٹو ڈسپوزبل سرنجیں‘‘ متعارف کرانے جا رہی ہے جو استعمال کے بعد خود ہی ضائع ہو جائیں گی اور انہیں دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں صحت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے بتایا کہ اس وقت ماہرین آٹو ڈسپوزبل سرنجوں کے مختلف نمونوں کا جائزہ لے رہیں ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ تین ماہ تک ملک کے تمام ہسپتالوں میں اورمیڈیکل سٹوروں پر یہ سرنجیں دستیاب ہوں گی۔

سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک ارب سرنجیں استعمال ہوتی ہیں اور ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں فروخت ہونے والی تقریباً اسی فیصد سرنجیں غیر اندارج شدہ ہیں۔ تنطیم کو خدشہ ہے کہ ان سرنجوں کے محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں اور لوگوں میں ایچ آئی وی، ہیپٹائیٹس سمیت دیگروبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہیں۔

وزارت صحت کے عہدیداروں نے اسی فیصد سرنجین غیر اندراج شدہ ہونے کی تصدیق نہیں کی لیکن وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ غیر محفوظ سرنجیں بہرحال خطرناک امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہیں۔

تنظیم کے ایک عہدیدار ڈاکٹر ارشد رانا اور قانونی مشیر ملک عمران کا کہنا ہے کہ 1994 میں حکومت نے سرنج کو دوا قرار دیتے ہوئے یہ قانون نافذ کیا تھا کہ اسے بنانے والی تمام کمپنیوں کے لئے وزارت صحت میں اپنا اندراج لازم ہوگا تاکہ سرکاری معائنہ کار اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہاں تیار ہونے والی سرنجیں جراثیم سے پاک اور مستند عملے کی زیر نگرانی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت اندراج کے بغیر سرنج تیار اور فروخت کرنے والے دونوں ہی کو پانچ سے دس سال قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے

تاہم مخدوم شہا ب الدین نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ آٹو ڈسپوزبل سرنجیں آنے سے ان خطرات سے مستقل بنیادوں پر نمٹا جا سکے گا۔

XS
SM
MD
LG