رسائی کے لنکس

بچوں میں نمونیا کے مرض میں اضافہ


اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیرعلاج نمونیا کا شکار بچہ

اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیرعلاج نمونیا کا شکار بچہ

عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت اس مرتبہ شدید سرد موسم کے باعث کم عمر بچے نمونیا سے زیادہ متاثر ہوئے اور سیلاب زدہ علاقوں میں تو یہ شرح انتہائی بلند ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ایک اعلیٰ عہدے دار ڈاکٹر ظریف الدین خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قائم صحت کے مراکز میں لائے جانے والے بچوں میں سے لگ بھگ 30 فیصد نمونیا کا شکار تھے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کم عمر بچوں کو جن بیماریوں سے شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اُن میں سے ایک جان لیوا مرض نمونیا کا ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ملک میں لگ بھگ 80 ہزار بچے اس بیماری کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت اس مرتبہ شدید سرد موسم کے باعث کم عمر بچے نمونیا سے زیادہ متاثر ہوئے اور سیلاب زدہ علاقوں میں تو یہ شرح انتہائی بلند ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ایک اعلیٰ عہدے دار ڈاکٹر ظریف الدین خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قائم صحت کے مراکز میں لائے جانے والے بچوں میں سے لگ بھگ 30 فیصد بچے نمونیا کا شکار تھے۔

وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال پولی کلینک میں شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر ظفراقبال نعیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موسم سرما میں اُن کے شعبے میں لائے جانے والے بچوں میں سے لگ بھگ 80 فیصد بچے نمونیا کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ خراب معاشی حالات نا صرف نمونیا بلکہ بچوں میں اس طرح کی دیگر جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس مرض میں مبتلا زیادہ تر بچوں کا تعلق بھی کم آمدن والے خاندانوں سے ہوتا ہے۔

ڈاکٹرظفراقبال نعیم

ڈاکٹرظفراقبال نعیم

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین اب پاکستان میں دستیاب تو ہے لیکن مہنگی ہونے کے باعث یہ ہرآدمی کی پہنچ میں نہیں ہے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پانچ سے کم عمر ایک بچے کے لیے نمونیا کی مکمل ویکسین پر تقریباً 20 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں اور معاشرے کے وہ طبقے جن کے بچوں کو اس بیماری سے سب زیادہ خطرات لاحق ہیں وہ اتنی مہنگی ویکسین لگوانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین کی زیادہ قیمت کے علاوہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بیشتر والدین اس بات سے آگاہ ہی نہیں کہ آیا یہ ویکسین پاکستان میں دستیاب بھی ہے یا نہیں۔ کم آمدن والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ دیگر امراض سے بچاؤ کے لیے سرکاری سطح پر ویکسینیشن کے عمل میں نمونیا کو بھی شامل کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG