رسائی کے لنکس

پاکستان، متعدی امراض کی نسبت غیر متعدی امراض سے زیادہ ہلاکتیں

  • حسن سید

پاکستان، متعدی امراض کی نسبت غیر متعدی امراض سے زیادہ ہلاکتیں

پاکستان، متعدی امراض کی نسبت غیر متعدی امراض سے زیادہ ہلاکتیں

وزارت صحت کے سابق سینیئر مشیر عبدالستار چوھدری نے بتایا کہ تقریبا دو دھائیاں پہلے متعدی امراض سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح ساٹھ فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ تاھم ان کا دعویٰ تھا کہ ملیریا، تپ دق، اسحال، پولیو، ہیپٹائٹس اور ایچ آئی وی ایڈز سمیت دیگر متعدی بیماریوں سے بچاو کے لیے ویکسین کی دستیابی اور ان سے متعلق شعور بیدار کرنے کے پروگراموں کے نتیجے میں اب شرح اموات چھیالیس فیصد پر آ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں گذشتہ سالوں کے دوران ایک اہم تبدیلی یہ رونما ہوئی ہے کہ اب متعدی امراض کے مقابلے میں غیر متعدی امراض سے زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

اٹھارھویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی وزارت صحت کی صوبوں کو باضابطہ منتقلی سے ایک روز پہلے وزارت نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا جس میں اس کے سابق سینیئر مشیر عبدالستار چوھدری نے بتایا کہ تقریبا دو دھائیاں پہلے متعدی امراض سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح ساٹھ فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ تاھم ان کا دعویٰ تھا کہ ملیریا، تپ دق، اسحال، پولیو، ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی ایڈز سمیت دیگر متعدی بیماریوں سے بچاو کے لیے ویکسین کی دستیابی اور ان سے متعلق شعور بیدار کرنے کے پروگراموں کے نتیجے میں اب شرح اموات چھیالیس فیصد پر آ گئی ہے۔ جبکہ غیر متعدی امراض سے ہونے والی اموات کی شرح بڑھ کر چون فیصد ہو گئی ہے۔

وزارت صحت کے سابق سینیئر مشیرعبدالستار چوھدری

وزارت صحت کے سابق سینیئر مشیرعبدالستار چوھدری

عبدالستار چوھدری جو 1976 میں وفاقی وزارت صحت کے پہلے ہیلتھ آفیسر ہونے کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے مشیر بھی رہ چکے ہیں غیر متعدی امراض سے اموات کی شرح میں اضافے کی وجہ غیر صحت مندانہ طرز زندگی، سگریٹ نوشی، غذائی قلت ، غیر صحت بخش غذا، ورزش نا کرنے اور ذہنی تناو کو قرار دیتے ہیں۔

’’اب جن امراض سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں ان میں بلند فشار خون ، ذیابیطس، دل کے امراض ، سرطان اور ذہنی امراض کے علاوہ حادثات بھی شامل ہیں‘‘۔

متعدی امراض سے ہونے والی اموات کی شرح میں کمی سے متعلق سابق مشیر کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہیپاٹائٹس ، ایچ آئی وی ایڈز اور پولیو جیسے خطرناک امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے مطابق طبی مراکز میں علاج معالجے کو دوران مناسب احتیاتی تدابیر نا اپنانا اور سرنجوں سمیت ہسپتالوں کی استعمال شدہ اشیاء کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نا لگانا ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے جب کہ خود طبی کارکنوں کا پندرہ فیصد اس بیماری کا شکار ہے۔

XS
SM
MD
LG