رسائی کے لنکس

مختلف تحقیقات کے مطابق مہلک مرض ہپاٹائیٹس کی ایک وجہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ہے۔

محتاط سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد ہیپاٹائیٹس کا شکار ہیں اور اس تعداد میں بتدیج اضافہ ہورہا ہے۔

اقوام متحدہ اور صحت کے ماہرین کے بقول اس جان لیوا مرض کے پھیلاؤ کا ’’عام اور بڑا‘‘ ذریعہ سرنج کا استعمال ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ملک کی 30 فیصد آبادی سال میں دس سے زائد مرتبہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے انجکشنز استعمال کرتی ہے جو کہ دنیا کے دیگر ملکوں کی نسبت ’’بہت‘‘ زیادہ ہے۔

محفوظ اور بہتر انداز میں انجکشنز استعمال کرنے سے متعلق آگاہی پیدا کرنے والی تنظیموں کے بین الاقوامی اتحاد سیف انجکشن گلوبل نیٹ ورک کے رکن ڈاکٹر ارشد الطاف وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ ہیپاٹائیٹس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے موثر کارروائی کرنا ہوگی۔

’’ایسی سرنجز جو ایک بار استعمال کے بعد ناکارہ ہو جاتی ہیں اگر وہ متعارف ہوجائے تودوبارہ استعمال کرنے کے امکانات بہت کم جاتےہیں۔ بھر ہمیں آگاہی کے ذریعے لوگوں کو اس بارے میں حساس بنانا ہوگا کہ وہ خود ڈاکٹرز سے کہیں کہ کیا انجکشن ضروری ہے کیا صرف دوا سے کام نہیں بنے گا۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں قانون سازی کی بھی اشد ضرورت ہے۔

مختلف تحقیقات کے مطابق مہلک مرض ہپاٹائیٹس کی ایک وجہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ہے۔ سرکاری حکام کے بقول ملک کی تقریباً 35 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ڈاکٹر الطاف ہیپاٹائٹس بی کا ویکسین پاکستان میں موجود ہے جو کہ پانچ سال کے بچے اور حاملہ خواتین کو حکومتی پروگرام کے تحت مفت فراہم کیا جاتا ہے مگر ہیپائٹس سی کا ویکسین نہیں ہے۔

’’ ہیپائٹس بی اور سی کا علاج بہت مہنگا اور لمبا ہے۔ اس کی کامیابی کی شرح بھی تقریباً 40 فیصد ہے۔ بہت قسم کے سائڈ افکٹ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ کر پاتے ہیں تو بہت سارے چھوڑ دیتے ہیں۔ تو یہ آسان نہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا بہتر ہے کہ احتیاطی اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض کے خلاف حکومتی سطح پر انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے جس میں صحت کے شعبے میں اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بہتر اور فعال بنانا سرفہرست ہے۔ اس وقت تعلیم اور صحت پر مجموعی طور پر قومی پیداوار کا صرف دو سے تین فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG