رسائی کے لنکس

پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ

  • حسن سید

پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ

پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ

محکمہء صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ مہینوں میں ایڈز کی مہلک بیماری کا سبب بننے والے جراثیم ،ایچ آئی وی، سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینجر ڈاکٹر عامر مقبول نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2009ء کے وسط تک ایچ آئی وی ایڈز کے لیے جن افراد کا خون ٹیسٹ کیا جارہا تھا اُن میں سالانہ لگ بھگ 50 سے 100 میں ان جراثیم کی تشخیص ہورہی تھی۔

لیکن اُن کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس رجحان میں ایک ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور ملک بھر میں قائم 14 خصوصی مراکز سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق اب ہر ماہ اوسطاََ 50 افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہورہی ہے اور یہ رجحان برقرار ہے ”جو ہمارے لیے یقینا ایک تشویشناک امر ہے۔“

ڈاکٹر عامر نے کہا کہ ایچ آئی وی /ایڈز کی تشخیص میں نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ معاشرے میں اس مرض سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہے جس کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں ایسے افراد سامنے آئے ہیں جو ماضی میں اپنے مرض کو پوشیدہ رکھتے تھے۔

”ملک بھر میں سرگرم غیرسرکاری تنظیموں کے توسط سے ٹیکے کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد، جسم فروش اور دیگر مریضوں تک رسائی ممکن ہوئی، جن کو ان تنظیموں نے سرکاری طبی مراکز میں رجسٹریشن کر وانے کا مشورہ دیا۔“

اُنھوں نے بتایا کہ نئے مریضوں میں اکثریت نشے کے عادی افراد، دوسرے ملکوں سے واپس بھیجے جانے والے غیرقانونی تارکین وطن اور مختلف جیلوں میں زیر حراست قیدیوں کی ہے۔

ایچ آئی وی/ ایڈز کے بارے میں مزید موثر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر کا کہنا تھا کہ یہ مرض تاحال لاعلاج ہے اور اس سے محفوظ رہنے کا واحد طریقہ بچاؤ ہے۔

لیکن اُنھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ملک کو درپیش سنگین اقتصادی بحران اور آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں چلے جانے سے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

ڈاکٹر عامر کے مطابق ایڈز پر قابو پانے کے لیے تعاون کرنے والے بعض ملکوں نے بھی مالی امداد کا حجم کم کر دیا ہے اور اُن کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے مختص کی جانے والی رقوم میں اضافہ کرے۔

XS
SM
MD
LG