رسائی کے لنکس

پاناما لیکس: وزیراعظم کے بیٹے اور بیٹی پیر تک اپنا جواب داخل کروائیں


سپریم کورٹ کے باہر تعینات پولیس کی اضافی نفری (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ کے باہر تعینات پولیس کی اضافی نفری (فائل فوٹو)

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے لارجر بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل ایک رکنی عدالتی کمیشن بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

جمعرات کو ہونے والی سماعت میں وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے تو جواب داخل کروا دیا گیا لیکن اُن کے دو بیٹوں حسین اور حسن کے علاوہ بیٹی مریم نواز نے اپنے جوابات داخل نہیں کروائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ تحقیقات کے لیے بنایا جانے والا کمیشن فریقین کی طرف سے جمع کروائے گئے ضوابط کار سے متفق ہو۔

اب اس معاملے کی سماعت آئندہ پیر کو ہو گی۔

وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے عدالت میں جواب داخل کروایا گیا جس میں اُنھوں نے کہا کہ اُن کے تمام اثاثے وہی ہیں جن کا ذکر وہ اپنے انتخابی گوشواروں میں کر چکے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے جواب میں کہا گیا کہ اُن کے تینوں بچے، حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز اُن کے زیر کفالت نہیں ہیں۔

وزیراعظم کے بچوں کی طرف سے عدالت میں جواب داخل نہیں کروایا گیا اور سپریم کورٹ نے اُنھیں پیر تک جواب داخل کروانے کی حتمی مہلت دی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عدالت میں ہونے والی سماعت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں الزام لگایا کہ حکومت سپریم کورٹ میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔

تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عدالتی نظام پر سب کو اعتماد کرنا چاہیئے۔

’’یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ملک اس ہیجانی کیفیت سے جتنی جلدی نکل جائے اُتنا بہتر ہے۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ فریقین کو صرف اور صرف اس ادارے کی کارروائی پر اعتماد کرنا چاہیئے۔‘‘

عمران خان کی جماعت تحریک انصاف، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی اور ایک وکیل طارق اسد نے پاناما لیکس کےمعاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

یکم نومبر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی زیر قیادت پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین تین نومبر تک اپنے اپنے ضوابط کار جمع کروا دیں۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے باہر جمعرات کی صبح صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی جماعت نے ضوابط کار تیار کر لیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے فریقین سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس بات کی تحریری یقین دہانی کروائیں کہ تحقیقاتی کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا۔

رواں سال اپریل میں پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق لگ بھگ چھ سو پاکستانی شہری ایسے ہیں جن کی ’آف شور کمپنیاں‘ ہیں، اور اُن میں وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کا نام بھی شامل تھا کہ اُنھوں نے بھی بیرون ملک اثاثے بنانے کے لیے ’آف شور‘ کمپنیاں قائم کی ہیں۔

عمران خان کی جماعت کا یہ الزام ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کے لیے پاکستان سے رقوم باہر منتقل کیں۔

تاہم وزیراعظم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، عدالتی کارروائی کا خیر مقدم کر چکے ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف نے پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات نا ہونے پر دو نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن جب سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل پر اتفاق کیا تو تحریک انصاف نے اپنا احتجاج منسوخ کرتے ہوئے دو نومبر کو ’یوم تشکر‘ منایا اور اسلام آباد میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا۔

XS
SM
MD
LG