رسائی کے لنکس

وزیراعظم نواز شریف یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اس تنازع کا پرامن سیاسی حل چاہتا ہے اور اس کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا ایک اہم اجلاس جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں یمن کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود، پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اور معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی شریک ہوئے۔

شہباز شریف بدھ کو سعودی عرب گئے تھے جہاں ان کی اعلیٰ سعودی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ خصوصاً یمن کے تنازع پر بات چیت ہوئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سعودی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں اعلیٰ سطحی اجلاس کو آگاہ کیا۔

سعودی عرب نے یمن میں حکومت مخالف شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جب کہ عرب دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

سعودی عرب نے یمن میں جاری آپریشن میں شریک ہونے کے لیے پاکستان سے بھی رابطہ کر رکھا ہے پاکستانی عہدیداروں کے مطابق سعودی حکومت نے اس کے لیے بری، بحری اور فضائی مدد مانگی ہے۔

تاہم گزشتہ ہفتے پاکستان کی پارلیمان نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ یمن کے تنازع میں غیرجانبدار رہتے ہوئے مصالحتی کردار ادا کرے۔

وزیراعظم نواز شریف بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اس تنازع کا پرامن سیاسی حل چاہتا ہے اور اس کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

سعودی عرب کا ماننا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے جب کہ تہران اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ یمن کا تنازع طاقت کی بجائے پرامن انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اس آپریشن کے لیے فوج نہیں بھیجے گا لیکن اگر سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری کو کسی طور بھی خطرہ ہوا تو پاکستان اس کا بھرپور دفاع کرے گا۔

سعودی عرب، پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جب کہ نواز شریف کے ساتھ شاہی خاندان کے قریبی دوستانہ مراسم ہیں۔ دوسری طرف ایران، پاکستان کا پڑوسی ملک ہے۔

پاکستان کے لیے یمن آپریشن میں براہ راست شرکت کا معاملہ کسی حد تک نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی سی صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ کارروائیوں میں شمولیت سے انکار کو بعض عرب عہدیداروں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG