رسائی کے لنکس

ملک بھر کی سرکاری جامعات میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ

  • عمیر ریاض

ملک بھر کی سرکاری جامعات میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ

ملک بھر کی سرکاری جامعات میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ

پاکستان کی تمام 72سرکاری جامعات میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں کٹوتی کے خلاف تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ اساتذہ کی ملک گیر تنظیم نے مطالبات پورے نہ ہونے پر 25 ستمبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی دھمکی دی ہے۔

سرکاری جامعات میں تعلیمی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان وائس چانسلرز کمیٹی کی جانب سے گزشتہ روز وفاقی وزارتِ خزانہ کے ذمہ داران کے ساتھ مسئلے کے حل کیلیے ہونے والے اجلاس کی ناکامی کے بعد کیا گیا تھا۔ جس پر بدھ کے روز ملک بھر کی 72 سرکاری جامعات میں تدریسی عمل معطل رہا اور جامعات کی حدود میں اساتذہ، طلبہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان نے احتجاجی مظاہرے اور اجلاس منعقد کیے۔

ملک بھر کی طرح کراچی کی تمام سرکاری جامعات بشمول جامعہ کراچی، وفاقی جامعہ اردو اور ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے حکومتی رویے کے خلاف تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا ۔ سندھ یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور سمیت اندرونِ سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں بھی تدریسی عمل مکمل طور پر معطل رہا جبکہ اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اوراجلاس منعقد کیے گئے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیرکی آزاد جموں و کشمیر یونیوسٹی میں بھی تدریسی عمل معطل رہا۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے فنڈز کی بحالی سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہونے پر 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج اور دھرنے کی دھمکی دی ہے۔

مسئلہ کیا ہے؟

ہائر ایجوکیشن کمیشن 2002 میں ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور اسکے معیار کو بہتر بنانے کیلیے قائم کیا گیا تھا۔ ایچ ای سی کو ملک کی 72 سرکاری اور درجنوں غیر سرکاری جامعات کی سپریم ریگیولیٹری باڈی کا درجہ حاصل ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کمیشن کے قیام سے لے کر اب تک گزشتہ آٹھ برسوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے ادارے کو ملک میں یونیورسٹی لیول کی تعلیم کے فروغ اور دیگر متعلق مدات میں200 ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کی جاچکی ہے۔ تاہم گزشتہ دو سالوں سے حکومت کی جانب سے کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی کے سبب ادارے کو سرکاری جامعات کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

وسائل کی کمی کا شکار ادارے کو اس وقت مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے ملکی تاریخ کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اٹھائے جانے والے کفایت شعاری کے اقدامات کے نتیجے میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلیے مختص اس کے بجٹ میں مزید کٹوتی کردی گئی۔

ایچ ای سی کے ایک اعلیٰ افسر نے وائس آف امریکہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی کے باعث ملک کی مختلف جامعات اور کمیشن کے 270 کے لگ بھگ پروجیکٹس پر کام متاثر ہوا ہے ۔

ان کے مطابق بجٹ 10-20009 میں حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلیے گزشتہ برس5ء18 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جو کہ گزشتہ سال کے بجٹ سے 11 ارب روپے کم تھے۔ تاہم مختص کردہ فنڈ میں سے بھی کمیشن کو پورے سال میں صرف 5ء11 ارب روپے جاری کیے گئے۔

ان کے مطابق کمیشن کے سخت احتجاج کے باوجود رواں سال حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں مزید 16 فیصد سے زائد کٹوتی کرتے ہوئے شعبہ کیلیے صرف 7ء15 ارب روپے مختص کیے جو سرکاری جامعات کی ضروریات پوری کرنے کیلیے ناکافی ہیں۔ ایچ ای سی کے اعلیٰ افسر کے مطابق پاکستان کی صرف ایک یونیورسٹی جامعہ پنجاب کا سالانہ بجٹ چار ارب روپے سے زائد ہے۔

کمیشن کے افسر کے مطابق فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب حکومت کی جانب سے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کے فیصلے پر ملک کی بیشتر سرکاری جامعات میں عمل درآمد نہیں ہو پایا جس پر جامعات کا عملہ تشویش کا شکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کو اب تک اس سال کے مختص کردہ بجٹ سے صرف 47ء1 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جس کا زیادہ تر حصہ اسکالر شپ پر بیرونِ ملک تعلیم پانے والے 5000 سے زائد پاکستانی طلبہ و اساتذہ پر خرچ کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کو مزید فنڈز کے اجراء سے انکار کی صورت میں جہاں جامعات میں جاری کئی منصوبے متاثر ہونگے، وہیں ملک کے اندر وظائف پہ تعلیم حاصل کرنے والے 4000 سے زائد طلبہ کو رقم کی فراہمی ناممکن ہوجائے گی۔

مذاکرات کی ناکامی

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ روز پلاننگ کمیشن کے ذمہ داران کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں وائس چانسلرز کمیٹی نے موقف اختیار کیا تھا کہ سرکاری جامعات کو تعلیمی و انتظامی اخراجات کیلیے فوری طور پر 7 ارب روپے درکار ہیں۔ تاہم وزارتِ خزانہ کی جانب سے مذکورہ رقم کی فراہمی سے انکار کے بعد اساتذہ نے احتجاج کی راہ اپنانے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید لغاری کی کوششوں سے وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عبدلحفیظ شیخ اور 70 سے زائد سرکاری جامعات کے سربراہان کے درمیان تنازعے کے حل کیلیے ہونے والی ملاقات ناکام ہوگئی تھی۔ وزیرِخزانہ نے وائس چانسلرز کا کوئی بھی مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی اپنی جامعات کیلیے فنڈز اور وسائل کا انتظام خود کریں کیونکہ حکومت کے پاس ان کی ضروریات پوری کرنے کیلیے فنڈز دستیاب نہیں۔

ملاقات کے بعد ملک کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ کی دھمکی دیتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس پر وزیرِ اعظم گیلانی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تنازعے کے حل کیلیے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، وفاقی سیکریٹری برائے تعلیم، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور تین جامعات کے وائس چانسلرز شامل تھے۔

تاہم منگل کو ہونے والا کمیٹی کا اجلاس کسی نتیجے پہ پہنچے بغیر ختم ہونے کے بعد جامعات کے وائس چانسلرز نے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کیا کوئی پیش رفت متوقع ہے؟

ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید لغاری نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے معاملے کے حل کیلیے بنائے گئی کمیٹی اپنے کل ہونے والے اجلاس میں جامعات کے وائس چانسلرز کے مطالبات تسلیم کرکے تنازعہ حل کرلے گی۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی کی اسکالر شپس پربیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے چار ہزار سے زائد طلبہ کو فنڈز کی فراہمی نہیں روکی گئی تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے سبب کمیشن کی جانب سے ہر قسم کے نئے وظائف کا اعلان مکمل طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

ادھر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جامعات کے 22 ارب روپے کی فراہمی کےمطالبے پر آمادگی سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق جامعات میں جاری کئی ترقیاتی پروجیکٹس تکمیل کے مراحل میں ہیں اور حکومت کی جانب سے اس موقع پہ فنڈز روکے جانے کے باعث ساری محنت اکارت جانے کا اندیشہ ہے۔

XS
SM
MD
LG