رسائی کے لنکس

’مالی وسائل میں کمی سے اعلیٰ تعلیم کی ترقی کو دھچکہ لگا ہے‘

  • حسن سید

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ جاوید لغاری

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ جاوید لغاری

حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں تقریباً پچاس فیصد کٹوتی سے مستقبل میں اس شعبے کی ترقی کے وژن کو دھچکا لگا ہے اور ایسے کئی منصوبے کھٹائی میں پڑ گئے ہیں جن پر عمل درآمد کرنا ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے بہت ضروری تھا۔

یہ بات اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سربراہ جاوید لغاری نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہی اور اس امر پر مایوسی کا اظہار کیا کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اس وقت بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور ادارے کے لیے آئندہ پانچ سے دس سالوں کے دوران نئے منصوبے تشکیل دینا مشکل ہو گیا ہے۔ جبکہ مزید پاکستانی سکالروں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہر بھیجنے کا پروگرام فی الحال روک دیا گیا ہے۔

’’تقریبا چھ سو سکالروں کو تعلیم کے لیے باہر بھجوایا جانا تھا اور ان میں سے چار سو کو تو ایوارڈ لیٹر بھی دے دیے گئے تھے لیکن حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں نہیں بھیجا جا سکتا اور یہ کہ کوئی نیا پروگرام بھی شروع نا کیا جائے‘‘۔

تاہم جاوید لغاری کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ حکومت سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ جس حد تک بھی ممکن ہو سکے وسائل کی دستیابی کو یقینی بنا کر اس شعبے کی ترقی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے حکومت سے بجٹ میں تیس ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا جس میں سے تقریبا پندرہ ارب روپے ہی مختص کیے گئے اور اس میں سے بھی پہلی سہ ماہی میں فراہمی تعطل کا شکار رہی جس کے باعث پاکستان میں کئی سرکاری یونیورسٹیوں کے پروفیسروں نے ہڑتالیں اور احتجاج بھی کیا۔

دوسری طرف حکومت مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے خود بہت حد تک بین الاقوامی امدادی ادارے یعنی آئی ایم ایف کی امداد پر انحصار کیے ہوئے ہے اور اس کا موقف ہے کہ ان مجبوریوں کے تناظر میں اس کے پاس اعلیٰ تعلیم اور دیگر شبعوں کے بجٹ میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

حکومت کی طرف سے فنڈز میں کٹوتی کے بعد اعلیٰ تعلیمی کمیشن تعلیم اور تحقیق کے لیے بین الاقوامی پارٹنر شپ کے پلیٹ فارم پر متحرک ہو گیا ہے اور بظاہر اس کے ذریعے اس خلا کو پورا کرنے کے لیے تگ و دو کررہا ہے جو وسائل کی کمی کے بعد پیدا ہوگیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں اس گروپ میں شامل ملکوں کی دو روزہ کانفرنس شروع ہوئی جس میں برطانیہ کے علاوہ ترکی، ملائشیا، افغانستان، ایران، نیپال ، سری لنکا ازبکستان شامل ہیں۔

مندوبین کانفرنس میں ایک دوسرے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی کے تبادلے ، مشترکہ تحقیق، طالب علموں کے لیے سکالر شپ پروگرام اور اساتذہ کے تبادلے سمیت کئی منصوبوں پر غور کریں گے۔

برطانیہ کے ہائی کمشنر ایڈم تھومسن نےایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو فنڈز کی کمی کی وجہ سے جن مشکلات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے میں ان کا ملک ہرممکن امداد فراہم کرے گا اور اس بات کو خاص طور سے یقینی بنایا جائے گا کہ پاکستانی طالب علموں کے لیے برطانیہ میں حصول تعلیم کو زیادہ سے زیادہ آسان بنایا جائے۔

XS
SM
MD
LG