رسائی کے لنکس

پاکستان میں آباد ہندوؤں کے مسائل

  • حسن سید

اقلیتی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی خواتیین کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

اقلیتی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی خواتیین کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

حکومت اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانوں سازوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ہندوؤں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا عزم رکھتے ہیں۔

سنگیتا دیوی ایک ہندو ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئیں اور پلیں بڑھیں لیکن سانولی رنگت کی اس لڑکی کی سماجی زندگی ملک کی لاکھوں دوسری شادی شدہ مسلمان عورتوں کی نسبت کہیں زیادہ گھٹن اور مشکلات سے دوچار ہے۔

رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی ستائیس سالہ تین بچوں کی ماں کے پاس ایک درزی کی بیگم ہونے کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں جس کی وجہ سے اسے پاکستان کے اکثریتی قدامت پسند معاشرے میں شک، نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

سنگیتا دیوی کا شمار پاکستان میں آباد ’’شیڈول کاسٹ‘‘ یا نچلی ذات کی ان ہزاروں شادی شدہ ہندوعورتوں میں ہوتا ہے جن کی شادی تو اگرچہ مذہبی رسومات کے مطابق ہو جاتی ہے لیکن ملک کے اندر ہندو شادی رجسٹریشن ایکٹ کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی سطح پر ان کی شادیاں درج نہیں ہوتیں اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

نتیجہ یہ کہ انہیں روز مرہ کے معمولات زندگی، قومی شناختی کارڈ کے حصول، وراثت میں حصے اور شوہر کی جائیداد میں حق سے محرومی سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے۔

’’شادی کے تیرہ سال بعد بھی میں اپنے شوہر کے ساتھ کہیں سفر نہیں کر سکتی گھوم پھر نہیں سکتی ہمیں عجیب شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ازدواجی حیثیت کے بارے میں عجیب عجیب سوال پوچھے جاتے ہیں‘‘۔

شیڈول کاسٹ برادری کا کہنا ہے کہ شادی یا شناختی کارڈ کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے اگر کوئی ہندو لڑکی اغوا ہو جائے یا زبردستی اس کی شادی کسی غیر ہند وسے کر دی جائے تو اہل خانہ کوئی قانونی چارہ جوئی اس لیے نہیں کر سکتے کہ ان کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہوتا۔

شادی اور شناختی کارڈ کا اندراج نہ ہونے سے مسائل کا سامنا صرف عورتوں کو ہی نہیں بلکہ ہندو مردوں کو بھی ہے۔

رحیم یار خان ہی سے تعلق رکھنے والے رمیش جےپال کا کہنا ہے’’اگرمیں اپنی بیوی کے ساتھ باہر جاتا ہوں تو مجھے ایک مسلسل نفسیاتی خوف رہتا ہے ۔ فوراً پولیس والا روک کر تفتیش شروع کر دیتا ہے‘‘۔

سنگیتا دیوی

سنگیتا دیوی

سندھ کے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والی نینا کی شادی کو تیرہ سال ہو چکے ہیں لیکن وہ بھی شادی کا دستاویزی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ’’سماجی گھٹن اور نفسیاتی تناؤ‘‘ سے دو چار ہیں۔ ’’ہم بھی انسان ہیں اگر کہیں کسی ہوٹل میں جا کر رہنا چاہئیں تو کمرہ کرائے پر نہیں لے سکتے کیوں کہ ازدواجی حیثیت کا ثبوت مانگا جاتا ہے، کہاں سے لائیں ثبوت‘‘۔

حکومت اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانوں سازوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں کے ہندوؤں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا عزم رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعت فردوس عاشق اعوان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھتی ہے اور ان کی شادی کے طریقہ اندراج کوطے کرنے کے لئے متعلقہ وزارتیں یقیناً اقدامات کریں گی۔

جبکہ جمیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی ممبر قومی اسمبلی آسیہ ناصر کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور اس ضمن میں قانوں پر کام کر رہی تھی جو وفاقی وزیر شہباز بھٹی کی ہلاکت کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا ’’لیکن اب پھر اس پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے‘‘۔

شیڈول کاسٹ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اور بحیثیت پاکستانی شہری انہیں جائز پہچان دلوانے کے لیے فوری قانوں سازی کی جائے۔

XS
SM
MD
LG