رسائی کے لنکس

’’تاریخی وثقافتی ورثہ بھی دہشت گردی کا شکار‘‘

  • محمد محمود

’’تاریخی وثقافتی ورثہ بھی دہشت گردی کا شکار‘‘

’’تاریخی وثقافتی ورثہ بھی دہشت گردی کا شکار‘‘

پاکستان میں دہشت گرد حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ سرحد میں صرف یہاں کے باسیوں کو جانی اور مالی نقصان ہی برداشت نہیں کرنا پڑا بلکہ اس صوبے اور ملک کا ورثہ سمجھی جانے والی تاریخی عمارتیں اورمقامات بھی شدت پسندوں کے حملوں کا شکار ہوئیں ۔

اقوام متحدہ کے تعلیم اور ثقافت سے متعلق ادارے ”UNESCO“ سے وابستہ عبدالحمید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ادارے نے پشاور ، مانسہرہ اور چترال میں اہم تاریخی عمارتوں کے اندارج اور اُن کے کوائف جمع کرنے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے اور ان کے بقو ل اب تک پشاور میں 255، مانسہرہ میں 230 اور چترال میں 300 ایسے تاریخی مقامات کے کوائف جمع کیے جاچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں دہشت گرد حملوں سے 15 اہم تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا ہے جس میں سب سے نمایاں پشتو زبان کے اہم صوفی شاعر رحمن بابا کا مزار شامل ہے جسے بم دھماکے میں شدید نقصان پہنچا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ سوات اور بنوں میں بھی اُن کا ادارہ تاریخی مقاما ت کے بارے میں معلومات اکٹھی کرکے اُنھیں دستاویز کی شکل دینا چاہتا ہے تاہم ان علاقوں میں حالات کی خرابی کے باعث ابھی تک اس منصوبے پر کام شرو ع نہیں کیا جاسکا ہے ۔

پاکستان کے تمام علاقوں بالخصوص صوبہ سرحد میں سیاحت اور تاریخی ورثے کے حوالے سے گذشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے کام کرنے والے ظہور درانی کا کہنا ہے کہ بم حملوں سے جہاں پشاورکے مینا بازار اور قصہ خوانی بازار کی 100 سال سے زائد پرانی کئی عمارتیں جل کر راکھ بن گئیں وہیں وادی سوات میں لکڑی سے بنی بیشتر تاریخی عمارتیں ، مساجد اور سکول بھی شدت پسندوں کے حملوں کے باعث منہدم ہو گئے ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان جہاں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث پہلے ہی بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں نے آنا چھوڑ دیا ہے اب اگر تاریخی مقامات بھی نہ رہے توپھر کون اس ملک کا رُخ کرے گا۔

سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پرانی اور تاریخی حیثیت کی حامل عمارتیں اور مقامات ناصرف کسی علاقے کی شاخت کی علامت سمجھی جاتی ہیں بلکہ ان سے لوگوں کی نسل در نسل یادیں بھی وابستہ ہوتی ہیں اور ان کی تباہی ایسے افراد کے لیے ذہنی کرب کا باعث بنتی ہے ۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں بالخصوص جنوبی وزیرستان میں برطانوی دور حکومت میں بنائے جانے والے تاریخی ”لدھا قلعہ“ کو بھی شدت پسندوں نے تباہ کردیا تھاجب کہ سوات میں بدھادور کے مجسموں اور والی سوات کے دور میں تعمیر کیے جانے والے سکول بھی شامل ہیں ۔ گذشتہ سال کے اواخر میں پشاور کے مرکز میں واقع پریس کلب کی تاریخی عمارت کو بھی ایک خودکش حملے میں نقصان پہنچا تھا جس کی بحالی کے لیے حکومت پاکستان کے علاوہ امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ”USAID“ کی جانب سے امداد فراہم کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG