رسائی کے لنکس

پاکستان نے چیمیئنز ٹرافی میں بھارت کو ہرا کرکانسی کا تمغہ جیت لیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سابق اولمپیئن قمر ابراہیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پاکستانی ٹیم کی بھارت کے خلاف کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ہر شعبے میں مخالف پر حاوی نظر آئی۔

آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں کھیلے جانے والے چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں اگرچہ پاکستان تیسری پوزیشن حاصل کرسکا لیکن شائقین اور مبصرین نے روایتی حریف بھارت کے خلاف کارکردگی کو ایک اچھا شگون قرار دیا ہے۔

اتوار کو بھارت کے خلاف میچ میں تین، دو سے فتح کے بعد پاکستان آٹھ سال بعد اس ٹورنامنٹ میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل لاہور میں کھیلی جانے والی چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان نے یہ میڈل بھارت کو ہی تین، دو سے شکست دے کر حاصل کیا تھا۔

چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ 2012ء کے گروپ میچوں میں عالمی نمبر ایک جرمنی کے خلاف میچ میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی قابل تحسین رہی۔

سابق اولمپیئن قمر ابراہیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پاکستانی ٹیم کی بھارت کے خلاف کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ہر شعبے میں مخالف پر حاوی نظر آئی۔

’’بھارتی ٹیم پوری طرح سے دباؤ میں نظر آئی اور پاکستان نے اچھا کھیل پیش کیا، خاص طور پر گول کیپر کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔‘‘

چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے قمر ابراہیم نے کہا کہ ٹیم کی دفاعی پوزیشن پر کھیلنے والوں کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔

’’ہمیں اس جیت کو ایسے نہیں لینا چاہیئے کہ ہم اس جشن سے ہی باہر نہ نکلیں کہ ہم کانسی کا تمغہ لے آئے۔ ابھی پاکستانی ٹیم کو بہت کام کرنا ہے۔ ٹیم کی دفاعی لائن مجھے کسی جگہ پر بھی منظم نظر نہیں آئی۔ اگر گول کیپر پر 14 کوششیں ہوں گی تو چار یا پانچ گول تو ہوں گے ہی۔‘‘

سابق اولمپیئن کے بقول بہرحال جیت ایک اچھا شگون ہے اور کسی بھی ٹورنامنٹ میں کانسی کا تمغہ جیتنا ایک کارنامہ ضرور ہے۔
XS
SM
MD
LG