رسائی کے لنکس

فٹنس پر توجہ دینا ہو گی: کوچ ہاکی ٹیم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ کھیل کے دوران کھلاڑی بہت سے تکنیکی پہلوؤں کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں جن پر توجہ دے کر کارکردگی کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی ٹیم کے لیے سابق اولیمپیئن شہناز شیخ کو کوچ مقرر کیا ہے جب کہ جونیئر ہاکی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سابق کھلاڑی منظور احمد کو سونپی گئی ہے۔

ماضی میں ہاکی کے میدانوں میں راج کرنے اور حریفوں کو ناکوں چنے چبوانے والی پاکستان کی ٹیم حالیہ برسوں میں کارکردگی ناقص ہونے کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کی زد میں رہی ہے۔

شہناز شیخ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس کے ساتھ ساتھ کئی تکنیکی امور پر بھی محنت کرنا ہو گی۔

’’ فٹنس ان کا مسئلہ ہے کیوں کہ یورپین کے مقابلے میں ان کا فٹنس لیول میں کم از کم تیس سے چالیس فی صد کم ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ مجھے ان کی فٹنس کو بہتر کرنا ہو گا کہ وہ پوری گیم کھیل سکیں اور جس رفتار سے کھیل شروع کریں اس رفتار سے کھیل کا اختتام کریں۔"

ماضی میں دو مرتبہ ٹیم کے کوچ رہنے والے شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ کھیل کے دوران کھلاڑی بہت سے تکنیکی پہلوؤں کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں جن پر توجہ دے کر کارکردگی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔

"تکنیکی اعتبار سے ان کا مسنگ ایشو جو ہے وہ بہت زیادہ ہے تقریباً یہ 70 منٹ میں جو مواقع ملتے ہیں اس میں سے تقریباً 65 فیصد یہ گول کرنے کے مواقع ضائع کرتے ہیں تو اس لیول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اگر مسنگ ایشو کم ہو گا تو ان پر دباؤ کم ہو گا اور یہ جیتنے کی طرف جائیں گے۔"

چار مرتبہ عالمی چیمپیئن رہنے والی پاکستان ہاکی، تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ رواں سال جون میں ہالینڈ میں ہونے والے ہاکی کے عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں ہو گی کیونکہ اس بڑے مقابلے میں رسائی کے لیے اسے ایشیا کپ جیتنا ضروری تھا جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکی تھی۔

پاکستان ماضی میں تین مرتبہ اولمپکس مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیت چکا ہے لیکن 2012ء کے اولمپکس میں یہ ساتویں نمبر پر رہا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔
XS
SM
MD
LG