رسائی کے لنکس

تعمیر نو کے لیے وسائل کا انتظام پاکستان کی ذمہ داری: ہالبروک


تعمیر نو کے لیے وسائل کا انتظام پاکستان کی ذمہ داری: ہالبروک

تعمیر نو کے لیے وسائل کا انتظام پاکستان کی ذمہ داری: ہالبروک

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ابھی سے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے کون سے ڈیم بننے چاہیئں وہ اس بارے میں پاکستانی قیادت کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے کیونکہ اس بات کا تعین خود پاکستانیوں نے کرنا ہے۔

خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے ہنگامی اور ابتدائی امداد کے مرحلوں میں اندرونی اقتصادی مشکلات کے باوجود امریکہ اور دوسرے دوست ممالک پاکستان کی بھرپور مدد کررہے ہیں لیکن تعمیر نو کے مرحلے کے لیے درکار اربوں ڈالرز کا بیشتر حصہ پاکستان کو اپنے وسائل سے فراہم کرنا ہوگا۔

ریڈیو پاکستان کے زیراہتمام جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعمیر نو کے مرحلے میں بھی دنیا پاکستان کی مدد کرے گی لیکن اس عمل کی قیادت اور اپنی ترجیحات کا تعین خود پاکستانی رہنماؤ ں کو کرنا ہو گا۔

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو اضافی محصولات جمع کرنے کے لیے اپنے طور پر کوششیں کرنا ہوں گی جو ایک بہت مشکل کام ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صدرآصف علی زرداری سے ملاقات میں انھیں یہ جاننے کا موقع ملا ہے کہ حکومت اس بارے میں منصوبہ بند ی بھی کر رہی ہے لیکن پاکستان کو محصولات میں جس کمی کا سامنا ہے اس کو پورا کرنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری نہیں۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور وہاں پر امدادی کیمپوں میں متاثرین سے ملاقات کے بعد انھیں یہ اندازہ ہو ا ہے کہ سیلاب زدگان کتنے حوصلہ مند لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن سیلاب زدگان سے وہ ملے انھیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان کی عمریں کیا ہیں لیکن وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان کی زمینوں اور مویشیوں کو سیلابی پانی سے کتنا نقصان پہنچا ہے اور وہ جلد سے جلد اپنے گھروں کوواپس جانا چاہتے ہیں۔ رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ اگرچہ سیلاب میں ہونے والی ہلاکتیں اتنی نہیں لیکن اس قدرتی آفت سے ہونے والے نقصانات دوسری جنگی عظیم میں ہونے والی تباہی سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

پاکستانی عہدے داروں کے مطابق ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے غیر معمولی تباہی ہوئی ہے اور ملک کا بیس فیصد رقبہ اس کی زد میں آیا ہے جہاں زراعت، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ماہِ جولائی کے اواخر میں شروع ہونے والے سیلاب سے دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے لاکھوں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے سترہ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے اور یہ عمل کئی برس کے عرصے میں مکمل ہو سکے گا۔

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ابھی سے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے کون سے ڈیم بننے چاہیئں وہ اس بارے میں پاکستانی قیادت کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے کیونکہ اس بات کا تعین خود پاکستانیوں نے کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کے لیے دی جانے والی امداد کا بدعنوانی کی نظر ہونا ایک افسوس ناک امر ہو گا لیکن امدادی رقوم کے غلط ہاتھوں میں جانے کے خدشات اور تحفظات کے باعث امداد دینے کے عمل کو روکنے سے بہت بڑی آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔

قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے میزائل حملوں پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے امریکی ایلچی نے کہا کہ اس مسئلہ پر اظہار خیال ایک مشکل کام ہے لیکن ان کے بقول سرحدی علاقوں میں موجود عسکریت پسندہم سب کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں موجود انتہا پسند افغانستان میں امریکیوں کو ہلاک کر رہے ہیں، یہ لوگ پاکستانیوں کو قتل کر رہے ہیں ، بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو ہو ادینے اور بین الاقوامی جہاد پر لوگوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے ان انتہا پسندوں کو نظر انداز کرناپاکستانی تہذیب اور یہاں خود صحافیوں کودرپیش عظیم خطرے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گا۔

XS
SM
MD
LG