رسائی کے لنکس

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق بظاہر یہ 'غیرت کے نام پر قتل" کی واردات معلوم ہوتی ہے تاہم اس بارے میں مزید تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں ایک ہی خاندان کےچھ افراد کو قتل کر دیا گیا اور شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ 'غیرت کے نام پر قتل' کی واردات ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب آٹھ ہزاری کے قصبے میں پیش آیا۔ مقتولین میں میاں بیوی ،ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔

پولیس کے ایک عہدیدار اوصاف صفدر واہلہ نے بدھ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مقتولین میں عبدالرزاق اس کی اہلیہ غلام فاطمہ اور ان کی تین بیٹاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ دو بڑی بیٹوں کی عمریں 20 اور 23 سال کی درمیان بتائی جاتی ہیں جبکہ بیٹے کی عمر بارہ سال اور چھوٹی بیٹی کی عمر چھ سال کی قریب بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق غلام فاطمہ نے اپنے پہلے شوہر عبدالرحمن کی وفات کے بعد 25 سال قبل عبدالرزاق سے اپنے خاندان کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی کی تھی جس پر اس کے خاندان والوں کو رنج تھا۔

اوصاف واہلہ کے مطابق فاطمہ کے پہلے شوہر سے دو بیٹے بھی تھے جن میں سے ایک بیٹے فضل محمد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب تین دوسرے افراد کی مدد سے کلہاڑی اور چھری کے وار سے عبدالرزاق، غلام فاطمہ اور تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک بیٹی کو شدید زخمی کر دیا گیا۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق بظاہر یہ 'غیرت کے نام پر قتل" کی واردات معلوم ہوتی ہے تاہم اس بارے میں مزید تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر سال لگ بھگ ایک ہزار خواتین کو "غیر ت کے نام "پر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاک کر دی جانے والی خواتین کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے کیونکہ کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔

اس سال مئی میں لاہور ہائی کورٹ کے باہر ایک خاتون کو اپنی پسند کی شادی کرنے پر اینٹیں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس واقعے کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ قوانین کا سختی سے نفاذ ، سخت سزاؤں اور سماجی رویوں میں تبدیلی سے اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG