رسائی کے لنکس

غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری


غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری

غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری

سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں ایک خاتون رکن پارلیمنٹ نصرت بانو عباسی نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے صوبے میں صرف دسمبر کے مہینے میں اب تک 43 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہو چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں غیرت کے نام پر قتل کے جرم کو علیحدہ سے جرم تصور کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔

رواں سال کے دوران پاکستان کی پارلیمان نے خواتین کے تحفظ کے کئی حوصلہ افزا قوانین کی منظوری دی ہے۔ لیکن ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران 675 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں جن میں اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہے جنہیں غیر مردوں سے جنسی تعلقات کے الزام کی وجہ سے قتل گیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سندھ میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سب سے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جاگیردارنہ سوچ پائی جاتی اور سماجی طور پرمردوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خواتین کی زندگیوں پر مکمل قابض ہو سکتے ہیں۔

’’مرد دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو کاروکاری کا الزام لگا کر انہیں قتل کر دیتے ہیں سوسائٹی کی سطح پر اسے تسیلم کیا جا رہا ہے اس لیے یہ جاری ہے۔‘‘

زہرہ یوسف نے کہا کہ ملک میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے خلاف قانون تو موجود ہے لیکن نچلی سطح پر انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹوں کے باعث اس جرم کے مرتکب افراد کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

’’عدلیہ کا نظام بھی اتنا سست ہے اس میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ جو لوگ جرم کر رہے ہیں ان کو حوصلہ ملتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔ ہمارے قانونی نظام کے تحت لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے جرم کرنے والوں کو سزا نہیں مل رہی ہے۔‘‘

پچھلی حکومت کے دور اقتدار میں غیرت کے نام پر خواتین کو بھینٹ چڑھانے کے جرم کو باقاعدہ قتل تصور کیا گیا تھا۔ زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ہونی والی خواتین زیادہ تر اپنے شوہر، باپ یا دوسرے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں انھوں نے کہا کہ ملک میں قصاص اور دیت کے قوانین بھی موجودہ ہیں اور ان قوانین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عورتوں کے قتل میں ملوث قریبی رشتے دار خاندانی سطح پر سمھجوتہ کر لیتے ہیں اور دیت کی وجہ سے انہیں آزادی مل جاتی ہے۔

سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں ایک خاتون رکن پارلیمنٹ نصرت بانو عباسی نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے صوبے میں صرف دسمبر کے مہینے میں اب تک 43 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہو چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں غیرت کے نام پر قتل کے جرم کو علیحدہ سے جرم تصور کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ہونے والی 675 خواتین میں 71 نابالغ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ اس دوران 169 عورتیں اپنے شوہر اور 127 بھائیوں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوئیں جبکہ 113 خواتین کو ان کے قریبی رشتہ داروں نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔

2010 ء میں ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG