رسائی کے لنکس

لاہور: عدالت کے باہر خاتون کے قتل پر چار افراد کو موت کی سزا


پسند کی شادی پر ہونے والی قتل کی بازگشت عالمی سطح پر سنی گئی

پسند کی شادی پر ہونے والی قتل کی بازگشت عالمی سطح پر سنی گئی

عدالت نے مقتولہ کے والد، اس کے بھائی، سابقہ شوہر اور ایک قریبی رشتے دار کو مختلف دفعات کے تحت سزائے موت جب کہ ایک بھائی کو دس سال قید کی سزا سنائی۔

پاکستان کی ایک عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی خاتون کے قتل کے جرم میں مقتولہ کے والد سمیت خاندان کے چار افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔

25 سالہ فرزانہ اقبال کو رواں سال مئی میں اس کے رشتے داروں نے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں اینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا تھا۔

خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کرنے والی فرزانہ کے قتل کے واقعے کی گونج عالمی سطح پر سنی گئی اور امریکہ سمیت مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔

بدھ کو لاہور میں ایک عدالت نے فرزانہ کے قتل کے جرم میں اس کے والد، اس کے بھائی، سابقہ شوہر اور ایک قریبی رشتے دار کو مختلف دفعات کے تحت سزائے موت جب کہ ایک بھائی کو دس سال قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے ان افراد پر ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ وہ ان سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ حقوق انسانی کی موقر تنظیم "ایچ آر سی پی" کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 870 خواتین کو غیر کے نام پر قتل کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG