رسائی کے لنکس

غیرت کے نام پر ایک اور قتل، وزیراعظم کا حالیہ واقعات پر اظہار تشویش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خواتین کے حقوق کے لیے ایک سرگرم کارکن ربیعہ ہادی کہتی ہیں کہ قانون سازی سے زیادہ معاشرے میں خواتین سے متعلق رویوں کو تبدیل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف حصوں سے خصوصاً "غیرت کے نام پر قتل" اور لڑکیوں کو جلائے جانے کے واقعات نے ایک بار پھر ملک میں عورتوں کے تحفظ پر بحث کی مہم کو تیز کر دیا ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کا تازہ ترین واقعہ جمعہ کو لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں پیش آیا جہاں ایک باپ نے پسند کی شادی کرنے والی اپنی بیٹی اس کے شوہر اور ایک تیسرے شخص کو مبینہ طور پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور بعد ازں خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کر لیا جس کے بعد قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ میاں بیوی کے علاوہ مارے جانے والے تیسرے شخص کا اس معاملے سے کیا تعلق تھا۔

رواں ہفتے لاہور ہی میں پسند کی شادی کرنے والی 18 سالہ لڑکی کو اپنی ہی ماں کے ہاتھوں جلائے جانے کے واقعے نے مقتدر حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

جلائی گئی لڑکی کا شوہر اپنی بیوی کی تصویر کے ساتھ

جلائی گئی لڑکی کا شوہر اپنی بیوی کی تصویر کے ساتھ

گو کہ بیٹی کو جلانے والی خاتون پولیس کی تحویل میں ہے لیکن اس قتل میں ملوث دیگر ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکے ہیں۔

جمعہ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں وزیراعظم نواز شریف نے لڑکی کے قتل پر شدید تشویش اور دکھ کا اظہار کیا۔

انھوں نے اس واقعے کو اسلام کی اقدار اور روایات کے منافی قرار دیتے ہوئے پنجاب میں عہدیداروں کو فوری طور پر اس میں ملوث تمام عناصر کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے سے قبل مئی کے اواخر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے محض 50 کلومیٹر دور واقع سیاحتی مقام مری کے مضافاتی علاقے میں ایک جواں سال لڑکی کو خود سے دگنی عمر کے مرد سے شادی کرنے سے انکار پر چند لوگوں نے تشدد کر کے زخمی کیا اور پھر اسے آگ لگا دی تھی۔

یہ لڑکی اسلام آباد کے ایک اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھی۔

اپریل میں خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں ایک ایسے ہی واقعے میں ایک لڑکی کو پسند کی شادی کرنے والی اپنی سہیلی کی معاونت پر قتل کر کے جلا دیا گیا تھا۔

ان واقعات پر جہاں انسانی اور خواتین کے حقوق کی تنظیمیں حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھیں وہیں جمعرات کو ملک کے ایوان بالا "سینیٹ" کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی ایوان کی معمول کی کارروائی کو روکتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کو جلائے جانے کے واقعات کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کی فہرست میں شامل کرے۔

انھوں نے اس ضمن میں فوری طور پر قانون سازی کرنے کا مطالبہ بھی کیا جس کی ایوان میں موجود سینیٹرز نے تائید کی۔

خواتین کے حقوق کے لیے ایک سرگرم کارکن ربیعہ ہادی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قانون سازی کی ضرورت پر تو بات کی جاتی رہتی ہے لیکن قانون بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے کہ کوئی بھی اس میں موجود کسی طرح کے سقم کے باعث سزا سے نہ بچ سکے۔

وہ کہتی ہیں کہ قانون سازی سے زیادہ معاشرے میں خواتین سے متعلق رویوں کو تبدیل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG