رسائی کے لنکس

خطے کی ترقی کے لیے امن و استحکام ضروری ہے: نواز شریف


فائل

فائل

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی دو بڑی اور تیزی سے فروغ پاتی معیشتوں بھارت اور چین کا پڑوسی ملک اور خطے میں اہم جغرافیائی محل وقوع کا حامل ہے لیکن خطے کے ممالک کے درمیان تاحال اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے خطے کی ترقی امن و استحکام سے وابستہ ہے اور علاقے کے عوام کے محفوظ و خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان امن کا خواہاں ہے۔

یہ بات انھوں نے منگل کو اسلام آباد میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی دو بڑی اور تیزی سے فروغ پاتی معیشتوں بھارت اور چین کا پڑوسی ملک اور خطے میں اہم جغرافیائی محل وقوع کا حامل ہے لیکن خطے کے ممالک کے درمیان تاحال اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوسکی ہے۔

ان کے بقول، "بدقسمتی سے خطے کے ممالک میں ابھی تک باہمی روابط نہیں ہیں۔ دو بڑے ملکوں کو ابھی اپنے درمیان اعتماد کی درکار سطح قائم کرنی ہے۔ انھیں ماضی کا بوجھ ایک طرف رکھتے ہوئے مستقبل پر نظر رکھنا سیکھنا ہو گا۔ پاکستان نے اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ نئے دور کے آغاز کی کوشش کی"۔

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ عالمگیریت کے اس دور میں علاقائی تعاون کو فروغ دے کر اقتصادی ترقی کا حصول ممکن ہے اور اس کے لیے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے رکن ملکوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان توانائی اور معیشت کے شعبے میں تعاون اور ترقی کے لیے چین سے بحیرہ عرب تک اقتصادی راہدای کے منصوبے پر گامزن ہے جس سے خطے کی ترقی کا حصول ممکن ہو سکے گا اور تقریباً تین ارب لوگ اس کے ثمرات سے فیض یاب ہو سکیں گے۔

پاکستانی وزیراعظم نے ایشیائی ترقیاتی بنک کی ایک جائزہ رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں 2050ء تک قوت خرید کے اعتبار سے فی کس آمدنی میں چھ گنا اضافے کے ساتھ یہ خطہ یورپ کے برابر پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر ترقی کا سفر یوں ہی جاری رہا تو ایشیا میں کوئی ملک غریب نہیں رہے گا۔

اجلاس کے منتظمین میں شامل سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس موقع پر کہا کہ شرکا نے ایک مشترکہ تصور پر بھی غور کیا ہے جس کے ذریعے خطے کے مسائل بیرونی مداخلت کے بغیر خطے کے رہنما ہی حل کریں۔

انہوں نے کہا، "ہم اس تصور تک پہنچے کہ اگر یورپی پارلیمنٹ ہوسکتی ہے تو ایشیائی پارلیمنٹ کیوں نہیں ہوسکتی، ہم اپنے اس تصور کے تحت ایشیائی پارلیمنٹ کی تشکیل کے لیے کام کریں گے، ایشیا کے ممالک مل کر بیٹھیں اور مسائل کو حل کریں کیونکہ خطے کے لوگوں کے مفادات ہی سب سے مقدم ہیں"۔

ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کا چھٹا تین روزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں 30 ملکوں کے لگ بھگ تین سو مندوبین شریک ہیں۔ اس اجلاس کا موضوع ’’ایشیا کی صدی، تعاون برائے توانائی، معیشت اور ماحولیات‘‘ ہے۔
XS
SM
MD
LG