رسائی کے لنکس

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے انسداد کے لیے حکومت مناسب کارروائی کرے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم نے احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف ہلاکت خیز حملوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں احمدیوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایک تازہ واقعہ جمعرات کو دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 70 کلومیٹر دور کامرہ میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے احمدی فرقے کے لطیف عالم بٹ کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

لطیف بٹ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پاک فضائیہ سے ریٹائر ہوچکے تھے اور اسی علاقے میں تقریباً 25 سال سے زائد عرصے سے مقیم تھے۔

وہ اپنی دکان سے گھر واپس جا رہے تھے کہ حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

"یہ افسوسناک واقعہ ہے اور کچھ دنوں میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ ہمارا تو مطالبہ یہی ہے کہ حکومت اس کے انسداد کے لیے مناسب کارروائی کرے اور جب اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں تو کم ازکم جو متاثرین ہیں انھیں انصاف ملنا چاہیے۔"

گزشتہ ماہ سندھ کے علاقے میرپور خاص میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے احمدی فرقے کے ایک ڈاکٹر مبشر احمد کو ان کے کلینک میں گھس کر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

رواں سال مئی میں امریکہ سے آئے ہوئے پاکستانی نژاد ڈاکٹر قمر مہدی کو ربوہ میں اس وقت گولیاں مارکر ہلاک کر دیا گیا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر حاضری کے بعد قبرستان سے نقل رہے تھے۔

ستر کی دہائی میں پاکستان میں احمدی فرقے کو آئینی طور پرغیر مسلم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد سے اس فرقے کے لوگوں پر اکثروبیشتر ہلاکت خیز حملوں کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

احمدیوں کی ایک تنظیم کے مطابق رواں سال اس فرقے کے ایک درجن سے زائد لوگ ایسے واقعات میں مارے جا چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں اضافہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی عکاسی کرتا ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔

حکومت نے حال ہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس کے ذمے اقلیتوں کو درپیش خطرات اور ان کے خلاف تشدد کے واقعات کے حقائق معلوم کرنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اس ضمن میں موجود قوانین پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف فرقوں اور مسالک کا ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز مواد اور بیان بازی پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG