رسائی کے لنکس

پاکستان: غیر ملکی کارکنوں پر حملے، ہیومن رائٹس کی تشویش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انسانی حقوق کی تنظیم کی سربراہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعے سے ملک میں فلاحی کاموں میں مصروف غیر ملکی امدادی کارکن مزید عدم تحفظ کا شکار ہوں گے اور خدشہ ہے کہ وہ جاری امدادی منصوبوں پر کام روک دیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک کے وسطی شہر لاہور میں سویڈن کی خاتون فلاحی کارکن پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے فلاحی کاموں میں مصروف غیر ملکیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

سویڈن کی برگیٹا ایمی کو لاہور میں مسلح افراد نے پیر کو اس وقت فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنے گھر کے باہر پہنچی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ لگ بھگ تین دہائیوں سے پاکستان میں فلاحی کاموں میں مصروف تھیں اور ان کی عمر تقریباً 70 برس ہے۔ لیکن لاہور پولیس نے ان کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان ’ایچ آر سی پی‘ کی سربراہ زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سویڈن کی خاتون پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعے سے ملک میں فلاحی کاموں میں مصروف غیر ملکی امدادی کارکن مزید عدم تحفظ کا شکار ہوں گے اور خدشہ ہے کہ وہ جاری امدادی منصوبوں پر کام روک دیں۔

’’یہ لوگوں کو احساس نہیں کہ وہ پاکستانی جو سب سے ضرورت مند ہیں، جو غریب ہیں اور جن کو تعلیم اور صحت کی ضرورت ہے ان پر اثر ہوتا ہے جب اس طرح کے کام بند کیے جاتے ہیں۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی منگل کو ایک بیان میں سویڈش خاتون فلاحی کارکن پر حملے کی مذمت کی ہے۔

لاہور میں گزشتہ سال ایک امریکی شہری ڈاکٹر وائن سٹین کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا جس کی ذمہ داری بعد ازاں القاعدہ نے قبول کی تھی۔ وہ پاکستان میں ایک امریکی ترقیاتی کمپنی سے وابستہ تھے۔

وائن سٹین کے اہل خانہ کی طرف سے اغواء کاروں سے متعدد بار ان کی خرابی صحت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی رہائی کی اپیلیں کی جا چکی ہیں لیکن تاحال وہ بازیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG