رسائی کے لنکس

رپورٹ میں فوج اور خفیہ اداروں پر الزام بھی لگایا ہے کہ انہوں نے شدت پسندوں کو مذہبی اقلیتوں اور بالخصوص شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دے رکھی ہے

پاکستان فوج نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی رپورٹ کو ’’جھوٹ کا پلندا اور مکمل طور پر جانبدار‘‘ قرار دے کر رد کردیا۔

ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ پاکستان دشمن ایجنڈا کی حمایت کرتے ہوئے ملک میں جاری فرقہ واریت کو مزید بڑھانے اور افراتفری پیدا کرنے کی بظاہر ایک کوشش ہے۔

ایچ آر ڈبلیو نے حال ہی میں جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان آرمی اور خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حکومت کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ میں فوج اور خفیہ اداروں پر الزام بھی لگایا ہے کہ انہوں نے شدت پسندوں کو مذہبی اقلیتوں اور بالخصوص شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دے رکھی ہے اور حکومت شدت پسندوں اور ان اداروں کے درمیان روابط کو ختم نہیں کر پائی یا اس کی خواہش نہیں رکھتی۔

رپورٹ کے مطابق عسکریت پسند گروہ بشمول کالعدم لشکر جنگھوی ملک بھر میں سرگرم عمل ہے اور گزشتہ سال کے دوران شدت پسندوں نے مختلف کارروائیوں میں 400 سے زائد شیعہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایچ آر ڈبلیو اپنی جانبدار رپورٹوں کے ذریعے تنازعات پیدا کرنے کی وجہ سے دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔

تاہم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین ریاض فتیانہ نے ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ کے ان انکشافات کو تسلیم کیا کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کو فراہم ہونے والی امداد کو ختم نہیں کیا جا سکا جس وجہ سے وہ مہلک کارروائیاں زیادہ دلیری سے کر رہے ہیں۔

’’15 لاکھ ایسے یتیم اور غریب بچے ہیں جنہیں انتہا پسند بنانے کے لئے ذہن سازی ہورہی ہے اور اس پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو بی ختم کردیا جاتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’جن عناصر کا پتہ ہے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت کو مسئلہ ہوجائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں ہوتے ہیں اور وہاں ہاتھ نہیں ڈالتے۔‘‘

ریاض فتیانہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما ہیں۔ انہوں نے ہفتے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انٹیلیجس ایجنسیوں میں شاید کچھ عناصر اب انتہا پسندوں کی حمایت کرتے ہوں مگر ان کی ذاتی معلومات کے مطابق بیشتر ایسے عہدیدار جو کہ شدت پسنوں کے ساتھ روابط میں تھے اب افوج پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا حصہ نہیں ہیں۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ شدت پسندی کے خاتمے کو اپنے انتخابی منشور میں سر فہرست بنائے۔ ’’آنے والی حکومت اس منشور پر ضرور عمل در آمد کرے اور خفیہ اداروں کی اس معلومات پر کان نہ دھرے کہ اگر کارروائی کی گئی تو حکومت کے لیے خطرہ پیدا ہوجائے گا۔‘‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا ایک نقطہ پر یکجا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ حکمران اتحاد کی رکن عوامی نشینل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے رواں ماہ ایک کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کررکھا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG