رسائی کے لنکس

درسگاہوں، اساتذہ اور طالب علموں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے


مہمند ایجنسی میں ایک تباہ شدہ اسکول (فائل فوٹو)

مہمند ایجنسی میں ایک تباہ شدہ اسکول (فائل فوٹو)

ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے بعض حصے اسکول جانے والے طالب علموں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم ہیومین رائٹس واچ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ درس گاہوں، طالب علموں، اساتذہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

ہیومن رائٹس واچ نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں طالبان، القاعدہ اور اس سے منسلک گروپوں سے بھی کہا ہے کہ وہ بچوں، اسکولوں اور اساتذہ پر حملے نہ کریں۔

تنظیم نے رواں سال پاکستان میں حملوں کا نشانہ بننے والے 96 اسکولوں سے موصول ہونے والی معلومات کے تناظر میں یہ بیان جاری کیا۔

ہیومن رائٹس کے مطابق اسکولوں پر حملوں کے زیادہ تر واقعات شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ اور افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں پیش آئے۔ مہمند ایجنسی میں 14، ضلع صوابی میں 13، چارسدہ میں 12 اور مردان میں 11 اسکولوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں بھی اسکولوں پر حملے کیے گئے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2011ء میں دہشت گردوں نے 153 اسکولوں کو نشانہ بنایا جس سے کچھ جزوی اور بعض مکمل طور پر تباہ ہوئے۔

اقوام متحدہ کے تعلیم، سائنس اور ثفافت سے متعلق ادارے یونیسکو نے جمعرات کو جاری ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں شعبہ تعلیم کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

شعبہ تعلیم کے لیے یونیسکو کے معاون ڈاکٹر سعید خان اس بارے میں کہتے ہیں۔ ’’جہاں جنگ کی حالت ہے یا جہاں تشدد پسند لوگوں کا غلبہ ہے وہاں اسکولوں میں داخلہ متاثر ہوتا ہے، چاہے وہ غربت کی وجہ سے یا سکیورٹی کے خطرات کی وجہ سے، وہ متاثر ہوتا ہے۔ پھر حکومت بھی بعض دفعہ وہاں پر نئے اسکول نہیں بناتی یا جو اسکول تباہ ہو جاتے ہیں ان کی مرمت نہیں ہوتی۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر علی دایان حسن نے بیان میں کہا ہے کہ ملک کے بعض حصے اسکول جانے والے طالب علموں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔

’’ اب پاکستانی عہدیداروں کے لیے یہ سمجھنے کا وقت آگیا ہے کہ صرف مذمت کر دینا ہی کافی نہیں ہے اور ایسے حملے صرف قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے سے ہی ختم ہوسکتے ہیں۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں بچوں کے تعلیمی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی 14 سالہ ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے کے تذکرے کے علاوہ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے تین طلبا و طالبات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہیں کوہاٹ سے پارا چنار جاتے ہوئے تیزاب سے نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکام کے مطابق یونیورسٹی کے طلبا پر تیزاب پھینکنے کا اس علاقے میں یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔

علی دایان کا کہنا تھا کہ جس طرح ملالہ یوسف زئی پر حملے کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی، ہر طالب علم یا اسکول پر ہونے والے کسی بھی حملے کی ایسے ہی مذمت کی جانی چاہیئے۔

’’برسوں سے ملبے کا ڈھیر بنے اسکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں واپس بھیجنے کے حکومتی عزم پر سوالیہ نشان ہیں۔‘‘

علاوہ ازیں عالمی تنظیم نے اپنے بیان میں پاکستانی فوج سے بھی کہا ہے کہ وہ اسکولوں کو اپنا اڈہ بنانے سے گریز کرے تاکہ دہشت گرد حملوں سے انہیں بچایا جاسکے۔
XS
SM
MD
LG