رسائی کے لنکس

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اطمینان بخش نہیں: ڈاکٹرمہدی حسن

  • قمرعباس جعفری

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اطمینان بخش نہیں: ڈاکٹرمہدی حسن

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اطمینان بخش نہیں: ڈاکٹرمہدی حسن

یہ دعویٰ کہ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری سے1973ء کا آئین اصل صورت میں بحال ہوگیا ہے، درست نہیں

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کےسربراہ ڈاکٹرمہدی حسن نے کہا ہےکہ انسانی حقوق کےحوالے سے گذشتہ سال ملک میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی، لیکن خواتین کےحقوق اور صوبائی خودمختاری کےمعاملے پر ’کسی حد تک مثبت پیش رفت‘ دکھائی دیتی ہے۔

جمعے کو’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں پاکستان کے حوالےسےمثبت اورمنفی دونوں باتیں درج ہیں، اور اِس بات پر زوردیا کہ نشاندہی کیےگئےمسائل کی طرف ترجیحی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے اٹھارہویں ترمیم کی پارلیمان سےمنظوری کا حوالہ دیتےہوئے اِس امید کا اظہار کیا کہ اِس کے ذریعے صوبوں کی طرف سےطویل مدت سے کیا جانے والا صوبائی خود مختاری کا مطالبہ’ کسی حد تک ‘حل ہوجائے گا۔ حالانکہ، اُن کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ 1973ء کا آئین اصل صورت میں بحال ہوگیا ہے۔

اُن کے بقول، جب تک آئین میں آٹھویں ترمیم، جسے ضیا الق کے دور میں دستور کا حصہ بنایا گیا، موجود ہے،اور جس میں 294اور 295-c کی شقیں شامل ہیں، مذہب کی بے حرمتی کے بہانے سے اقلیتوں کےساتھ امتیازی سلوک جاری رہے گا۔

اُنھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو لوگ مذہب کی بےحرمتی کی شقوں سےمتعلق تشریح سے اتفاق نہیں کرتے، وہ اِس کا شکاربن رہے ہیں اورشکار بنتے رہیں گے۔

بلوچستان کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ افسوس اِس بات کا ہے کہ سیاسی جماعتیں جو اپنے آپ کو اہم قرار دیتی ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان اُن کی ترجیح نہیں۔

دوسری طرف، اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بارے میں پکیج کے اعلان کا وعدہ پورا نہیں ہوا ،کیونکہ اگر اعلان ہوا بھی ہے تو کم از کم اُس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اُن کے بقول، صوبہٴ بلوچستان کے حوالے سے کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ مزید یہ کہ لاپتا افراد کا معاملہ بھی حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے نشاندہی کی کہ بلوچستان اورسندھ کی ہندوآبادی کوامتیازی سلوک کی شکایا ت ہیں جن میںروز بروزاضافہ آتا جارہا ہے، اِس حد تک کہ اِس اقلیت کے کئی افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ پھر یہ کہ ہندو آبادی کی شادی کاریکارڈ عائلی قوانین کے تحت رجسٹر نہیں ہوتا جس کے باعث اُنھیں قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول اور عدالتی معاملات میں دشواریاں پیش آتی ہیں۔

کراچی کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ قانون کی پاسداری کا معاملہ ایک چیلنج کی صورت اختیار کر گیا ہے جس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ جب کہ موجودہ حکومت نے مختلف شعبوں میں خواتین کو اہمیت دی ہے، لیکن جہاں تک اُن کے ساتھ بد سلوکی کا تعلق ہے، جس میں غیرت کے نام پر قتل شامل ہے، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اِس کے علاوہ گھریلو تشدد کا معاملہ بھی سنگین نوعیت اختیار کرتا جارہا ہے۔

یہ معلوم کرنے پر کہ کمیشن کی سالانہ رپورٹ آنے کےبعد ادارے کی طرف سے حکومت یا سیاسی جماعتوں کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا ہے، اُنھوں نے بتایا کہ عام طور پر حکومتی اور غیر حکومتی حلقوں سے افراد کو اپنا نقطہٴ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے، لیکن ، اُن کے بقول، اِس کا کوئی اثر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

دریں اثنا، حکومتی ترجمان فرزانہ راجہ نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ بہتر برتاؤ روا رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، اور اِس ضمن میں صورتِ حال پہلے کی نسبت بہتر ہے۔

فرزانہ راجہ نے دہشت گردی کے مسئلے کی طرف دھیان مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بچیوں کے اسکولوں سے لے کر مساجد اورخانقاہوں پرحملے ہورہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی پاکستان اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے۔ اُن کے بقول، یہ کسی اور کی لڑائی نہیں ہماری اپنی لڑائی ہے۔ دوسری طرف، غربت اور پسماندگی کے مسائل کی طرف دھیان مبذول کراتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ حالات میں مزید بہتری لائی جائے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG