رسائی کے لنکس

”2009ء پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک رہی“

  • حسن سید

”2009ء پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک رہی“

”2009ء پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک رہی“

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں 2009ء کے دوران ملک میں انسانی حقوق کی غیر تسلی بخش صورتحال پیش کی ہے جب کہ پارلیمان اور عدلیہ کی کارکردگی کو بھی مایوس کن قراردیا ہے۔

پیر کے روز اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے ابتداہی ان کلمات سے کی کہ ان کے پاس کوئی بہتری کی خبر نہیں ہے۔

رپورٹ میں اگرچہ حکومت کے بعض اقدامات کو صوبائی خودمختاری اور جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا ہے جن میں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا معاہدہ اور گلگت بلتستان میں انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔ تاہم اس بات پر تنقید کی گئی ہے کہ قانون سازی میں منتخب پارلیمان کا کردار کم اور صدارتی آرڈیننسوں کا زیادہ عمل دخل رہاجب کہ این آر او کو بھی بحث کے لیے پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا۔ پارلیمان نے صرف چار قانون منظور کیے جب کہ صدر کی طرف سے 61آرڈیننس جاری ہوئے۔

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ اور ماتحت عدالتیں عوام کی امنگوں کے مطابق کام نہیں کرسکیں اور عوام کو بدستور انصاف کے حصول میں دشواریوں اور تعطل کا سامنا رہا۔

عاصمہ جہانگیر نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ عدلیہ کی کارکردگی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاسکتا کہ کتنے مقدمات چلے یا کتنے ازخود نوٹس لیے گئے بلکہ اہم بات یہی ہے کہ کتنے زیادہ لوگوں کو کتنا جلدی انصاف ملا اور کس حد تک انصاف کی فراہمی کا نظام مستحکم ہوا۔

رپورٹ میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کا مبینہ غلط استعمال جاری ہے اور 2009ء کے دوران اسے اقلیتوں کے خلاف کم بلکہ خود مسلمانوں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف زیادہ استعمال کیا۔ تاہم کمیشن نے اس بات پر اطمینان کا بھی اظہار کیا ہے کہ پورے سال میں کسی بھی مقدمے میں مجرم کی پھانسی پر عمل درآمد نہیں ہوا اگرچہ 276افراد کو سزائے موت کی سنائی گئی۔

عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر

رپورٹ میں فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق دہشت گردی کے 2586واقعات میں 3021افراد ہلاک اور 7344زخمی ہوئے۔ خواتین پر تشدد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور 1404خواتین قتل ہوئیں جن میں سے 647کو غیر ت کے نام پر ماراگیا۔

کمیشن نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکومت کے حامی لشکروں کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ متحارب عسکریت پسند لشکروں کو ایک دوسرے کے قتل کی اجازت دینا خلاف قانون ہے۔

رپورٹ میں اگرچہ پارلیمان کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے ہیں لیکن خواتین ممبران کی کارکردگی کو مردوں کی نسبت زیادہ سرگرام قراردیا گیا۔

XS
SM
MD
LG