رسائی کے لنکس

پاکستانی معاشرے میں انسانی حقوق، اعداد و شمار کے آئینے میں


پاکستانی معاشرے میں انسانی حقوق، اعداد و شمار کے آئینے میں

پاکستانی معاشرے میں انسانی حقوق، اعداد و شمار کے آئینے میں

پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آرسی پی) نے اپنی سالانہ رپورٹ برائے سال 2010ء جمعرات کو جاری کردی ، جس میں انسانی حقوق کی صورتحال کو نہایت خراب قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مختلف سیکٹرزکا اعدادو شمار کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں حقوق انسانی کمزور ، تشدد میں اضافہ جبکہ امن وامان قریب قریب ختم ہوگیا ہے۔

ایچ سی آر سی پی کی جانب سے پیش کیےگئے جائزے کے مطابق پاکستانی معاشرے میں جہاں ایک جانب تشدد روزبہ روزبڑھ رہا ہے وہیں ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال بھی نہایت خراب بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2010ء میں 12 ہزار 5 سو80 افراد پرتشدد واقعات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ گزرا ہوا سال اقلیتوں اور صحافیوں کے لئے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔


ملک بھر میں اغواء برائے تاوان کی 16977 وارداتیں ہوئیں جن میں سے 581 کیسز میں تاوان بھی طلب کیا گیا۔ ملک بھر میں 37,088 گاڑیاں چوری ہوئیں یا انہیں چھین لیا گیا۔ پولیس نے 60,884 ناجائز ہتھیار برآمد کئے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں 957 افراد ہلاک ہوئے۔ 338 افراد پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے جبکہ صرف 28 مشتبہ افراد کو زندہ یا زخمی حالت میں گرفتار کیا جاسکا۔ پولیس کی غیر قانونی حراست سے 174 افراد کو بازیابی نصیب ہوئی۔

سال2010ء میں مجموعی طور پر 67 خودکش حملے ہوئے جن میں 1159 افراد ہلاک ہوئے ۔ ان میں 1,041شہری شامل تھے۔ ملک میں دہشت گردحملوں کے نتیجے میں 2,542 ہلاک اور 5,062 زخمی ہوئے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں 237 سیاسی کارکن اور 301 عام لوگ ہلاک ہوئے ۔ لیاری گینگ وار کے نتیجے میں 81 افراد ہلاک ہوئے۔

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے 117 واقعات ہوئے جن میں 118 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ ان میں 29غیر بلوچی آباد کارتھے جبکہ 17 افراد کا تعلق شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ صوبے بھر سے 59 لاپتہ افراد کی لاشیں ملیں جبکہ حقوق انسانی اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں کو دھمکیاں دی گئیں۔

اقلیتوں کی حالت زار
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اقلیتوں کے لئے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوا اور 99 احمدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ پانچ سو ہندو خاندان اپنی زندگیاں بچانے کے لئے ہندوستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اورکزئی ایجنسی سے25 سکھ خاندانوں نے زندگی کو خطرات لاحق ہونے کے باعث ہجرت کی ۔ مختلف اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 17 افراد غیرت کے نام پر اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔ اقلیتی برادری میں سے 73 لوگوں نے اقدام خود کشی کیا جس میں سے 21اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔فرقہ پرستی کے حوالے سے ہونےوالے پُر تشدد واقعات میں 418 افراد ہلاک اور 963 زخمی ہوئے ۔ توہین رسالت کے تحت 64 مقدمات درج ہوئے ۔ تین افراد توہین رسالت کے جرم میں دوران حراست قتل کردیے گئے۔

صحافیوں کی مشکلات
ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار دس میں 20 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں ۔ بعض صحافتی اداروں میں وقت پر نخواہیں بھی نہیں دی گئیں جس سےصحافیوں کا استحصال ہوا ۔ اس کے علاوہ سیکورٹی خدشات کے باعث فاٹا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کو رسائی نہیں دی گئی جس کے باعث عوام حقائق جاننے سے محروم رہے ۔

خواتین اور بچوں کے حالات
گزشتہ سال 791 خواتین کو غیرت کے نام پرقتل کیا گیا ۔ 2 ہزار 9 سو 3 خواتین کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا جن میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ 719 خواتین نے اقدام خود کشی کی جس میں سے 414 کی زندگی بچ گئی ۔ گزشتہ سال بچوں کے لئے بھی انتہائی ناخوشگوار یادیں چھوڑ گیا ۔ تقریباً ایک کروڑ بچے سیلاب سے متاثر ہوئے جن میں سے پچیس لاکھ کی عمر پانچ سال سے کم تھی ۔ایک ہزار ایک سو 54 بچوں کو مختلف جرائم میں حراست میں لیا گیا ۔170 بچوں نے اقدام خود کشی کیا جس میں سے 76 کی زندگی بچ گئی ۔اس کے علاوہ سیلاب میں کم از کم چار سوبچے گم ہوئے ۔

شرح خواندگی، سیلاب سے تعلیمی نقصان
پاکستان میں خواندگی کی شرح گزشتہ سال 57 فیصد رہی ۔ سیلاب سے دس ہزاراسکول متاثر ہوئے جس سے پندرہ سے پچیس لاکھ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔ اگر چہ حکومت نے اٹھارویں ترمیم میں میٹرک تک تعلیم مفت دینے کی شق پاس کی مگر گزشتہ سال بجٹ میں جی ڈی پی سے تعلیم کو صرف دو فیصد دیا گیا ۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولز پر 163 حملے کیے گئے۔ بلوچستان میں جنوری دو ہزار آٹھ سے اکتوبر دو ہزار دس تک 22 اساتذہ کو قتل کیا گیا ۔ 54 اراکین اسمبلی کی تعلیمی اسناد جعلی قرار دی گئیں۔

صحت: ڈاکٹرز کا خلا
گزشتہ سال پاکستان کے کم از کم چار ہزار ڈاکٹر وں نے بیرون ملک ملازمت اختیار کی جس سے پاکستان کے اسپتالوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ۔ پاکستان میں زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث تقریباًٍ ہر منٹ بعد ایک خاتون لقمہ اجل بن جاتی ہے۔ ساڑھے دس لاکھ سے زائد ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص ہوئی ، ایک لاکھ اسی ہزار ہیپاٹائٹس ، ایک لاکھ 60 ہزار ملیریا ، ستر لاکھ ذیابیطس اور پانچ ہزار ایڈز کے مریض سامنے آئے ۔ اس کے علاوہ تقریبا 22 ہزار زندگیوں کے چراغ ملک میں آلودگی کےباعث بجھ جاتے ہیں ۔

بے گھر ہونے والے افراد
ملک میں گزشتہ سال سیلاب کےباعث تقریبا سترلاکھ افراد بے گھر ہو گئے، اگرچہ بعد میں بعض علاقوں سے سیلاب کا پانی اتر بھی گیا تاہم گھر اور زرعی اراضی بہہ جانے کے باعث وہ ملک کے دیگر علاقوں میں کیمپوں میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ تقریبا ایک لاکھ تیس ہزار افراد کو دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کےنتیجے میں اپنا گھربار چھوڑنا پڑا ۔ ایک لاکھ سے زائد افغان مہاجرین واپس چلے گئے جبکہ ایک لاکھ ساٹھ ہزارافغانیوں کا پاکستان میں اندراج کیا گیا ۔

XS
SM
MD
LG