رسائی کے لنکس

پاکستان کا 'آئی ایم ایف' سے مزید قرض نہ لینے کا اعلان

  • عمیر ریاض

پاکستان کا 'آئی ایم ایف' سے مزید قرض نہ لینے کا اعلان

پاکستان کا 'آئی ایم ایف' سے مزید قرض نہ لینے کا اعلان

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض کی فراہمی کے لیے عائد کڑی شرائط میں نرمی کرنے سے انکار کے بعد پاکستان نے عالمی ادارے سے طے شدہ قرضے کی 7ء 3 ارب ڈالرز کی آخری قسط نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس انکار کے ساتھ ہی پاکستان اور 'آئی ایم ایف' کے درمیان تین سال کے دوران کل 3ء 11 ارب ڈالرز قرض کی فراہمی کا معاہدہ اختلافات دور نہ ہونے کے باعث ختم ہوگیا ہے۔

برطانوی اخبار 'فنانشل ٹائمز' کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ قرضے کی فراہمی کے لیے 'آئی ایم ایف' نے کڑی شرائط عائد کردی تھیں جس کے باعث پاکستان نے مزید قرض نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے نومبر 2008ء میں 'آئی ایم ایف' سے ایک ایسے وقت مالی معاونت کی درخواست کی تھی جب ملک میں افراطِ زر کی شرح 30 برسوں کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی تھی اور ملک کو بیرونی قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث نادہندہ قرار پانے کا خطرہ درپیش تھا۔

ابتدائی طور پر طے پانے والے معاہدے کے تحت 'آئی ایم ایف' نے پاکستان کو 6ء 7 ارب ڈالرز قرض فراہم کرنا تھا جسے بعد ازاں بڑھا کر 3ء 11 ارب ڈالرز کردیا گیا تھا۔

عالمی ادارے نے پاکستان کو یہ قرض دو سال کے عرصے کے دوران قسطوں میں دینا تھا اور اسے پاکستان کے معاشی نظام میں ایسی اصلاحات سے مشروط کیا گیا تھا جنہیں کئی معاشی ماہرین نے مشکل اور فوری طور پر ناقابلِ عمل قرار دیا تھا۔

ان شرائط میں حکومت کی جانب سے بجلی اور کھاد سمیت مختلف اشیاء پر دی جانے والی سبسڈیز کے خاتمہ، محصولات کی شرح، حجم اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے اور ٹیکس کے شعبے کی تنظیمِ نو سمیت کئی دیگر اصلاحات شامل تھیں۔ ہر قسط کی ادائیگی پاکستان کی جانب سے ان اصلاحات پر پیش رفت سے مشروط تھی۔

حکومت نے اس قرض کی آخری قسط مئی 2010ء میں وصول کی تھی جس کے تین ماہ بعد پاکستان میں آنے والے ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کے باعث عالمی ادارے نے اگلی اور آخری قسط کے حصول کے لیے درکار اصلاحات پر عمل درآمد کی ڈیڈلائن میں 11 ماہ کی توسیع کردی تھی جو رواں برس 30 ستمبر کو ختم ہوگئی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ڈیڈ لائن میں اضافے اور شرائط میں نرمی کے لیے وزارتِ خزانہ کے عہدیداران اور 'آئی ایم ایف' کی ٹیم کے مابین واشنگٹن میں مذاکرات جاری تھے جن میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث پاکستان نے 'آئی ایم ایف' پروگرام سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

'فنانشل ٹائمز' سے گفتگو میں عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ 'آئی ایم ایف' حکام کے ساتھ ایک مشترکہ جائزے کے بعد پاکستان نے مزید قرضے کی درخواست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت اپنے اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کرے گی۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی شرحِ نمو 5ء 3 فی صد ہے جس کے باعث اسے 'آئی ایم ایف' کے قرض کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ انہوں کہا کہ ملکی معاشی معاملات کو ضابطے میں رکھنے کے لیے ان کی حکومت وہ 'بینچ مارکس' حاصل کرنا چاہتی ہے جو اس کے اپنے طے کردہ اصلاحاتی پروگرام میں متعین کیے گئے ہیں۔

قرض پروگرام کے قبل از وقت خاتمے کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے ذمہ قابلِ ادا قرض کی 2ء 1 ارب ڈالرز کی پہلی قسط 'آئی ایم ایف' کو آئندہ برس کے آغاز ہی میں ادا کرنا ہوگی جس سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تاہم وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے کا جس کا زیادہ تر دارومدار برآمدات میں اضافے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائے جانے والے زرِ مبادلہ پر ہے۔

دریں اثنا سیکریٹری خزانہ وقار مسعود نے ایک امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جنرل' سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے موجودہ ذخائر 17 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہیں جو آئندہ پانچ ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ان کے بقول "اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی ہنگامی امداد کی ضرورت نہیں رہی ہے"۔

یاد رہے کہ 'آئی ایم ایف' نے گزشتہ ہفتے جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے کئی خدشات ظاہر کیے تھے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان معاشی سال 12-2011 کے لیے طے کردہ اپنے بیشتر اہداف حاصل نہیں کرسکے گا۔

عالمی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ بڑھتے ہوئے مالی خسارے کے باعث پاکستان کا معاشی استحکام اور اس کی 'کریڈٹ ریٹنگ' متاثر ہوسکتی ہے۔

لیکن کریڈٹ ریٹنگ کا تعین کرنے والے ایک خود مختار ادارے 'اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز' نے گزشتہ روز معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ”بی“ کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا جو ادارے کے بقول اس اعتماد کا مظہر ہے کہ پاکستان ایک مناسب سطح پر اپنے زرمبادلہ کے ذخائر قائم رکھ سکے گا۔
XS
SM
MD
LG