رسائی کے لنکس

شرائط میں نرمی اورنئے قرض کا حصول : پاکستان، آئی ایم ایف بات چیت جاری


شرائط میں نرمی اورنئے قرض کا حصول : پاکستان، آئی ایم ایف بات چیت جاری

شرائط میں نرمی اورنئے قرض کا حصول : پاکستان، آئی ایم ایف بات چیت جاری

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ترجمان نے جمعے کے روز بتایا کہ واشنگٹن میں پاکستان اور فنڈ کے درمیان ملاقاتوں اور بات چیت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

پاکستانی وزیرِ خزانہ عبد الحفیظ شیخ پاکستانی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے واضح کیا ہےکہ سیلاب کے باعث پاکستان کے لیے قرضے کی شرائط پوری کرنا ممکن نہیں رہا حالانکہ کوشش یہی ہے کہ اِس پر عمل درآمد کو یقینی بنا یا جائے۔

نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئےوزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی غیر معمولی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت پبلک سیکٹر اور معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے اقدامات کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ معیشت میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور یہ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔

سرکاری اعداو شمار کے مطابق، سیلاب کی وجہ سے چاروں صوبوں کے دو کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 40لاکھ افراد بے گھر ، زرعی شعبہ سخت متاثر ہوا ہےجب کہ 80لاکھ سے زائد متاثرین کو فوری انسانی امداد درکار ہے، جس کے لیے امریکہ سمیت، بین الاقوامی برادری کی امداد کے علاوہ مخیر حضرات اور نجی اداروں نے امداد مہیا کی ہے۔

یاد رہے کہ 2008ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے 10.5ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ طے کیا تھا جس میں سے دو تہائی مل چکا ہے۔

حالیہ سیلاب کے باعث پاکستان کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ قرضوں کی ریسٹرکچرنگ کی جائے، اور 2008ء میں منظور ہونے والی رقم فوری طور پر پاکستان کو دی جائے۔

حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 11ارب ڈالر کے قرضے کے حصول پر کام کر رہا ہے جب کہ ملک میں سخت معاشی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG