رسائی کے لنکس

پاکستان کے اقدامات پر آئی ایم ایف کا اظہار اطمینان


اسحق ڈار اور جیفری فرینکس

اسحق ڈار اور جیفری فرینکس

وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت نے حالیہ مہینوں میں مختلف اقدامات کیے جس سے معیشت صحیح سمت پر گامزن ہوسکی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان کی حکومت کی طرف سے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جس کے بعد توقع ہے کہ آئندہ ماہ پاکستان کو قرضے کی 55 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط ملنے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔

اتوار کو دبئی میں پاکستان کے وزیرخزانہ اسحق ڈار کی سربراہی میں ایک اقتصادی وفد سے بات چیت کے بعد آئی ایف ایم مشن کے سربراہ جیفری فرینکس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مقررہ اہداف کی طرف بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں توانائی کے شدید بحران کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے معیشت کو سنبھالا دینے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ سے 6.7 ارب ڈالر قرضے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔

آئی ایم ایف پاکستان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے سمیت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرے۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت نے حالیہ مہینوں میں مختلف اقدامات کیے جس سے معیشت صحیح سمت پر گامزن ہوسکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کی چوری اور لائن لاسز تقریباً 28 فیصد تک ہیں جو ملکی خزانے پر ایک بڑے بوجھ کا سبب ہیں۔

’’قوانین میں تبدیلی کی گئی اور اب بجلی چوری قابل سزا جرم ہے اور اسی طرح گیس کے شعبے میں بھی بہت زیاں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق یہ لائن لاسز دو فیصد ہونے چاہیئں جب کہ پاکستان میں یہ دس فیصد کے قریب ہیں اس پر بھی قانون سازی ہو رہی ہے۔‘‘

وفاقی وزیر نے بتایا معیشت کی بحالی کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں جن سے آنے والے برسوں میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایف ایم کے علاوہ آئندہ دنوں میں پاکستان کو امریکہ اور عالمی بنک سے بھی رقوم مل رہی ہیں جس سے زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔

بین الاقوامی اداروں سے قرضوں کے حصول پر حکومت کو بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ موثر پالیسیوں کی عدم موجودگی میں ملک مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔

لیکن وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کے دیگر عہدیدار حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ صرف گزشتہ سال کے عرصے میں بجٹ خسارہ 8.8 فیصد سے کم ہو کر 8.2 فیصد ہوگیا ہے۔
XS
SM
MD
LG