رسائی کے لنکس

پاکستان اور آئی ایم ایف کا آٹھواں جائزہ اجلاس مکمل


آئی ایم ایف نے تین برسوں کے دوران کل سات ارب 78 کروڑ ڈالر سے زائد کا قرض دینا ہے جس کی قسط جاری کرنے سے پہلے اقتصادی اہداف کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر ملک کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کا بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سہ ماہی کے تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔

دبئی میں عالمی مالیاتی فنڈ "آئی ایم ایف" کے ساتھ توسیع شدہ قرض پروگرام کا آٹھواں جائزہ اجلاس ہوا اور اسحاق ڈار کے بقول قرض کی اگلی قسطتقریباً پچاس کروڑ ڈالر سے زائد رقم آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو جاری کر دی جائے گی۔

آئی ایم ایف نے تین برسوں کے دوران کل سات ارب 78 کروڑ ڈالر سے زائد کا قرض دینا ہے جس کی قسط جاری کرنے سے پہلے اقتصادی اہداف کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

دبئی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں کی نسبت ملک میں افراط زر کی شرح میں بھی قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔

اقتصادی صورتحال میں بہتری کی متعدد وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے سے پاکستان کے ذمے واجب الادا رقم میں سہولت ملی وہیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم سے ان کے بقول ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی ریکارڈ سطح پر یعنی 18 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئے۔

اقتصادی اشاریوں میں بہتری کے باوجود ناقدین اور عوام کی اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بحران پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے آرہے ہیں لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مختلف منصوبوں پر توجہ دینے سے ماضی کی نسبت صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے شروع ہونے سے ناصرف لاکھوں کی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے ملک کے طول و عرض میں خوشحالی کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔

چین کے شہر کاشغر سے پاکستان کے ساحلی شہر گوادر تک 46 ارب ڈالر کے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت مواصلات، بنیادی ڈھانچے اور صنعتوں کا ایک جال بچھایا جانا ہے۔

اسے حکومت کے علاوہ غیر جانبدار مبصرین بھی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے لیے ایک "قسمت بدلنے والا" منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG