رسائی کے لنکس

پاکستان وفد کی قیات وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کی جب کہ ’آئی ایم ایف‘ کے وفد کی قیادت جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینک نے کی۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اُن کی ٹیم کے عالمی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ کے جائزہ مشن سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔

جس کے بعد پاکستان کو 55 کروڑ ڈالر قرض کی نئی قسط کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

پاکستان اور ’آئی ایم ایف‘ کے حکام کے درمیان تین روزہ مذاکرات جمعرات کو دبئی میں مکمل ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ کے جائزہ مشن نے پاکستان کو پچپن کروڑ ڈالر کی آئندہ قسط جاری کرنے کی سفارش کی۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کی جب کہ ’آئی ایم ایف‘ کے وفد کی قیادت جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینک نے کی۔

پاکستانی وزیر خزانہ نے دبئی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات میں پاکستان کے اقتصادی اہداف کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

’’اہداف کو حاصل کر لیا گیا ہے۔۔۔۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے ہماری ٹیم جس میں سیکرٹری خزانہ، گورنر اسٹیٹ بنک دوسری وزارتوں (کے لوگ بھی تھے) ۔۔۔۔ ایک اچھی خبر ہے کہ ہمارا بڑا کامیاب (اقتصادی) جائزہ مکمل ہو چکا ہے‘‘۔

’آئی ایم ایف‘ کا جائزہ مشن پاکستان کو 55 کروڑ ڈالر کی قسط کے اجراء کی سفارش مرکزی بورڈ کو بھیجے گا، جس کے بعد قرض کی فراہمی کی حتمی منطوری دی جائے گی۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے مذاکرات میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

’آئی ایم ایف نے 2013ء میں پاکستان کو تین برسوں کے دوران کل سات ارب 78 کروڑ سے زائد کا قرض اقساط میں دینے کی منظوری دی تھی۔

ہر قسط کی ادائیگی سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ پاکستان میں مجوزہ اقتصادی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک میں افراط زر کی شرح میں کمی ہو رہی ہے جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG